حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے اسکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انجیاہ اڈیپو نے امریکہ کی یونیورسٹی آف لوزیانا لافائیٹ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ مکمل کر لی ہے۔ ان کی یہ کامیابی مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تحقیق اور جدت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
ڈاکٹر انجیاہ اڈیپو نے یہ تحقیقی کام یونیورسٹی آف لوزیانا لافائیٹ کے اسکول آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیٹکس کے ڈائریکٹر پروفیسر مارٹن مارگالا کی رہنمائی میں مکمل کیا۔ ان کی تحقیق کا عنوان ’’انٹرنیٹ آف تھنگز سے مربوط وہیکولر ایڈہاک نیٹ ورکس میں سائبر سکیورٹی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی فریم ورک‘‘ ہے۔
اس تحقیق میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سائبر سکیورٹی کی جدید تکنیکوں کے استعمال پر توجہ دی گئی ہے تاکہ انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) سے منسلک گاڑیوں کے مواصلاتی نیٹ ورکس کو زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔ اس شعبے کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ جدید گاڑیوں میں ڈیجیٹل رابطوں کا استعمال بڑھ رہا ہے اور ذہین ٹرانسپورٹ نظام کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ایک اہم ضرورت بن گیا ہے۔
انٹرنیٹ آف تھنگز سے مربوط گاڑیوں کے نیٹ ورکس میں مختلف گاڑیاں اور دیگر آلات ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایسے نظام میں سائبر سکیورٹی کے مضبوط انتظامات ضروری ہیں تاکہ مواصلاتی نظام کی حفاظت برقرار رہے اور ممکنہ سائبر خطرات سے نمٹا جا سکے۔ ڈاکٹر اڈیپو کی تحقیق اسی مقصد کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے فریم ورک کی تیاری سے متعلق ہے جو ان نیٹ ورکس کی سلامتی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اسکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر محمد یوسف خان کے مطابق ڈاکٹر انجیاہ اڈیپو نے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ (اے آئی اینڈ ایم ایل) سائبر سکیورٹی وائرلیس سینسر نیٹ ورکس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں تحقیق اور اختراع کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
ڈاکٹر انجیاہ اڈیپو کے نام ہندوستان برطانیہ اور کینیڈا میں 20 سے زائد پیٹنٹ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح کے معتبر تحقیقی جرائد اور کانفرنسوں میں تقریباً 100 تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں۔ انہیں تحقیق اور پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اعزازات اور اسناد بھی مل چکی ہیں۔
یونیورسٹی آف لوزیانا کا قیام 1898 میں عمل میں آیا تھا۔ یہ یونیورسٹی آف لوزیانا سسٹم کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور اس نظام کی واحد یونیورسٹی ہے جسے کارنیگی کی جانب سے ریسرچ 1 (آر 1) یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔ یہ درجہ اعلیٰ سطح کی تحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر اڈیپو کی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کی تکمیل ان کے تحقیقی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ کامیابی مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر سکیورٹی کے حل تیار کرنے میں بین الاقوامی علمی تعاون اور تحقیقی اشتراک کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔