وویک رامسوامی کو شکست، اوہائیو میں پہلی بار خاتون گورنر منتخب

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
وویک رامسوامی کو شکست، اوہائیو میں پہلی بار خاتون گورنر منتخب
وویک رامسوامی کو شکست، اوہائیو میں پہلی بار خاتون گورنر منتخب

 



واشنگٹن: امریکی ریاست اوہائیو کے گورنر کے انتخاب میں ریپبلکن امیدوار اور ہندوستانی نژاد امریکی رہنما وویک رامسوامی کو ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شکست تسلیم کرنے کے بعد رامسوامی نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی سمت پر تشویش ظاہر کی، تاہم ساتھ ہی امید بھی ظاہر کی کہ امریکہ تمام مشکلات سے نکل کر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرلے گا۔ یہ انتخابی مہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی بھرپور حمایت کے باعث خاصی اہمیت اختیار کرگئی تھی۔

انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد رامسوامی نے اپنے حامیوں سے کہا، ’’مجھے آپ کو بتانا ہے کہ مجھے اپنے ملک کے مستقبل کی سمت کے بارے میں شدید تشویش ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ انہوں نے شکست کے باوجود حوصلہ برقرار رکھنے کی بات کرتے ہوئے کہا، ’’لیکن مجھے یقین ہے کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ہیں اور آخرکار ہم نے ہمیشہ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔‘‘ اس شکست کو ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ نے اوہائیو میں بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 60 سالہ ایمی ایکٹن پیشے سے ڈاکٹر اور اوہائیو کی سابق ڈائریکٹر صحت ہیں۔

وہ ریاست کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 2006 کے بعد پہلی مرتبہ کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے اوہائیو میں گورنر کا عہدہ حاصل کیا ہے۔ انتخابات کے آخری مرحلے کے نتائج کے مطابق ایمی ایکٹن کو تقریباً 51 فیصد ووٹ ملے، جبکہ وویک رامسوامی کو 46 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ لبرٹیرین پارٹی کے امیدوار ڈان کسک تقریباً 3 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

یہ نتیجہ 2024 کے صدارتی انتخاب کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی جانب 16 فیصد پوائنٹس کے نمایاں جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت ٹرمپ نے اوہائیو میں 11 فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ رامسوامی نے اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران بتایا کہ انہوں نے ایمی ایکٹن سے رابطہ کرکے انہیں کامیابی پر مبارک باد دے دی ہے۔

انہوں نے اپنی انتخابی ٹیم، رضاکاروں اور حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ سرکاری عہدے پر فائز ہوئے بغیر بھی اوہائیو کی خدمت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اپنے والدین، اہلیہ اپوروا، تین بچوں اور اپنے نائب امیدوار و اوہائیو سینیٹ کے صدر روب میک کولی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ 41 سالہ کاروباری شخصیت رامسوامی قومی سطح پر 2024 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے بعد قدامت پسند سیاست کے ایک نمایاں چہرے بن کر ابھرے تھے۔ وہ اوہائیو کے پہلے ہندوستانی نژاد امریکی گورنر بننے کی کوشش کررہے تھے۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ان کی انتخابی مہم میں اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگائی تھی، اس لیے ان کی شکست کے اثرات صرف اوہائیو تک محدود نہیں رہے۔

صدر ٹرمپ نے 28 اکتوبر کو چلی کوٹھی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ووٹروں سے کہا تھا، ’’آج سے 6 دن بعد اوہائیو کے عوام وویک رامسوامی کو اپنا گورنر منتخب کریں گے۔‘‘ اس کے بعد 31 اکتوبر کو انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے منعقدہ انتخابی ریلی میں بھی رامسوامی کی حمایت کا اعادہ کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی 2 نومبر کو اپنی آبائی ریاست اوہائیو واپس پہنچے اور انتخاب سے ایک روز قبل سوینٹن میں ریلی کرکے قدامت پسند ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اعلیٰ سطح کی اس حمایت کے باوجود ریپبلکن پارٹی کو ریاست میں مزید نقصان اٹھانا پڑا۔ رامسوامی کی شکست کے ساتھ ہی ڈیموکریٹ امیدوار شیروڈ براؤن نے ریپبلکن سینیٹر جان ہسٹڈ کو بھی شکست دے دی۔

رامسوامی کی انتخابی مہم آخری دنوں میں خاصی جارحانہ ہوگئی تھی۔ اس دوران ایک متنازع اشتہار بھی جاری کیا گیا، جس میں ایمی ایکٹن کی ان کی والدہ سے دوری کو موضوع بناتے ہوئے ڈیموکریٹ امیدوار پر بے ایمانی کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس اشتہار پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید ہوئی۔ سبکدوش ہونے والے ریپبلکن گورنر مائیک ڈی وائن نے بھی اس پر اعتراض کیا، تاہم صدر ٹرمپ نے رامسوامی کے اس اشتہار کے استعمال کا دفاع کیا۔ انتخابی مہم کے دوران رامسوامی نے ٹیکسوں میں کمی، سرکاری ضابطوں میں نرمی اور عوامی اخراجات گھٹانے پر زور دیا تھا۔ دوسری جانب ایمی ایکٹن نے صحت کی سہولتوں، مہنگائی سے راحت، تعلیم اور محنت کش خاندانوں کی معاشی مشکلات کو اپنی انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا۔ اپنی انتخابی مہم کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے رامسوامی نے ذاتی دولت بھی بڑی مقدار میں لگائی۔

ستمبر کے اواخر تک وہ اپنی مہم کو 36 ملین ڈالر سے زیادہ قرض دے چکے تھے۔ وویک رامسوامی 1985 میں اوہائیو کے شہر سنسناٹی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین ہندوستانی تارکین وطن ہیں اور ان کے خاندان کا تعلق کیرالہ کے ضلع پلکڑ کے علاقے وڈکنچری سے ہے۔ ان کے والد وی جی رامسوامی نے کیرالہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انجینئر کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے امریکہ ہجرت کی تھی، جبکہ ان کی والدہ گیتا رامسوامی پیشے سے ماہر نفسیات ہیں۔ وویک رامسوامی نے ہارورڈ یونیورسٹی اور ییل لا اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے 2014 میں بایو ٹیکنالوجی کمپنی رووینٹ سائنسز کی بنیاد رکھی تھی۔