میونخ (جرمنی): عالمی ایغور کانگریس (ڈبلیو یو سی) نے اپنی حالیہ ہفتہ وار رپورٹ میں چین کے نگرانی کے نظام، مشرقی ترکستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بیرون ملک چینی سرکاری اداروں کی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کو اجاگر کیا ہے۔ ڈبلیو یو سی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق، سینٹر فار ایڈوانسڈ ڈیفنس اسٹڈیز (سی فور اے ڈی ایس) کی نئی رپورٹ ’مانیٹرنگ دی فرنٹیئر‘ میں مشرقی ترکستان، تبت، اندرونی منگولیا اور ہانگ کانگ میں نگرانی اور کنٹرول کے ایک دوسرے سے جڑے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ڈبلیو یو سی کے مطابق رپورٹ میں مشرقی ترکستان میں بایومیٹرک ڈیٹا جمع کرنے والی ٹیکنالوجی سے متعلق 135 معاہدوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنے والی نگرانی کی کمپنی ’یونی ویو‘ 54 نگرانی سے متعلق معاہدوں میں شامل پائی گئی، جن میں سے کئی معاہدے تیسرے فریق کے ذریعے کیے گئے تھے۔ ڈبلیو یو سی کی رپورٹ میں برطانیہ کی سکیورٹی سروس ایم آئی فائیو کی اس وارننگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں چینی انٹیلی جنس سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے برطانوی تعلیمی تحقیق کے مبینہ غلط استعمال کی کوششوں کی بات کہی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایم آئی فائیو نے کہا ہے کہ برطانوی اداروں سے وابستہ 100 سے زیادہ ماہرین تعلیم نے غیر ارادی طور پر ’چائنا جنرل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک منصوبوں میں حصہ لیا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے تعلقات چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی سے ہیں۔ ہفتہ وار رپورٹ میں مشرقی ترکستان میں بین الاقوامی کاروباری اداروں کی توسیع پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ ڈبلیو یو سی کے مطابق اسٹاربکس نے 29 ستمبر کو ارومچی میں اپنے پہلے دو اسٹور کھولے، جن میں گرینڈ بازار اور تیان شان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم اسٹور شامل ہیں۔
تنظیم نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیاں ایغوروں کے حقوق سے متعلق جاری خدشات کے درمیان ایسی صورت حال کو معمول کا روپ دینے کا خطرہ مول لے رہی ہیں۔ ڈبلیو یو سی نے اسٹاربکس سے ان اسٹورز کو بند کرنے اور اس علاقے سے نکلنے کی اپیل کی ہے۔ ڈبلیو یو سی کے مطابق چین کے آئندہ جائزے سے قبل اقوام متحدہ کی ’کمیٹی آن دی رائٹس آف دی چائلڈ‘ کے پری سیشن ورکنگ گروپ کی میٹنگ میں بھی ایغوروں کے حقوق کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ڈبلیو یو سی اور ایغور حقوق کی تنظیم یو زیڈ ڈی ایم نے خاندانوں کی علیحدگی، سرکاری بورڈنگ اسکولوں، امتیازی سلوک، ثقافتی اور مذہبی حقوق اور ایغور بچوں سے متعلق مبینہ جبری مشقت پر تشویش کا اظہار کیا۔
ڈبلیو یو سی نے کہا کہ اس کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ خاندانوں کی علیحدگی کے پیمانے اور حالات کے بارے میں بیجنگ سے تفصیلی معلومات طلب کرے۔ ہفتہ وار رپورٹ میں یکم اکتوبر کو مختلف ملکوں میں ایغور، تبتی، ہانگ کانگ کے باشندوں، جنوبی منگولیائی اور چینی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کیے گئے احتجاجی مظاہروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ڈبلیو یو سی کے مطابق جرمنی، بیلجیم، امریکہ اور ترکی میں ہونے والے مظاہروں کے ذریعے انسانی حقوق سے متعلق خدشات اور نسلی اقلیتوں کے حوالے سے چین کی پالیسیوں کی جانب توجہ دلائی گئی۔