واشنگٹن ڈی سی۔ امریکی فوج کے بدھ کے روز عراق سے اپنے فوجیوں کا انخلا مکمل کرنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی عراق میں 12 سال سے جاری امریکی فوجی موجودگی کا اختتام ہو جائے گا۔ یہ موجودگی داعش کے خلاف امریکی مہم کے بعد شروع ہوئی تھی۔اے بی سی نیوز کے مطابق عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ بائیڈن انتظامیہ نے 2024 میں عراق کے ساتھ مذاکرات کے بعد طے کیا تھا اور 30 ستمبر کو اس کے لیے آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اس منصوبے پر عمل جاری رکھا۔
امریکی فوجی 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد تقریباً 8 سال تک عراق میں موجود رہے تھے۔ 2011 میں امریکی فوجیوں کا انخلا ہوا تھا۔ تاہم 2014 میں داعش کے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضے اور بغداد کے قریب پہنچنے کے خطرے کے بعد امریکی فوج دوبارہ عراق میں داخل ہوئی۔امریکہ کی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں 2019 میں داعش کو عسکری طور پر شکست دی گئی۔ تاہم داعش کی دوبارہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے امریکی فوجی عراق میں موجود رہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکی فوج نے شمالی عراق میں اپنی پوزیشنیں محدود کر دی تھیں اور اربیل میں اپنی موجودگی بھی کم کر دی تھی۔ اے بی سی نیوز کے مطابق حتمی انخلا سے قبل شمالی عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔امریکی فوج کا انخلا ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی سلامتی کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ عراق کے ایران کے ساتھ طویل عرصے سے سیاسی ثقافتی اور فوجی تعلقات ہیں۔ ایران عراق میں سرگرم بعض شیعہ ملیشیا گروپوں کی حمایت بھی کرتا رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق میں موجود باقی امریکی فوجیوں کو اردن منتقل کیا جا رہا ہے۔ وہاں داعش کے خلاف جاری امریکی مشن کا مرکز قائم کیا جائے گا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اردن سے کام کرنے والی امریکی فوج ان جنگجوؤں کو نشانہ بنا سکتی ہے جو امریکی اہلکاروں اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ بنیں۔اخبار کے مطابق 30 ستمبر کی آخری تاریخ سے قبل تقریباً 1500 امریکی فوجی اور داعش مخالف اتحاد کے اہلکار عراق میں موجود تھے۔ ان کی تعیناتی کو محدود علاقوں تک مرکوز کیا جا رہا تھا۔
امریکی فوج کا انخلا ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب عراق ریاستی کنٹرول سے باہر سرگرم مسلح گروپوں کے کردار سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران نواز ملیشیا نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کی مخالفت کی ہے اور ان کے غیر مسلح ہونے کی آخری تاریخ بڑھا کر جون 2027 کر دی گئی ہے۔الجزیرہ کے مطابق عراق امریکی فوج کے انخلا کے موقع پر 4 دن کو ’’خودمختاری کے دن‘‘ کے طور پر منائے گا۔ یہ قومی تعطیلات عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی اہمیت کو اجاگر کریں گی۔
الجزیرہ کے مطابق وزیر اعظم علی الزیدی نے امریکی فوج کے انخلا کو ریاستی اختیار مضبوط کرنے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔ ان کوششوں میں جون 2027 تک ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے الزیدی نے کہا کہ ان کی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ امن اور جنگ کے معاملات میں ریاست ہی حتمی فیصلہ کرنے والی قوت ہو۔بدھ کے روز متوقع انخلا کے بعد عراق میں امریکی فوجی موجودگی دوسری مرتبہ ختم ہو جائے گی۔