امریکی وسط مدتی انتخابات: سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
امریکی وسط مدتی انتخابات: سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری
امریکی وسط مدتی انتخابات: سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری

 



واشنگٹن: امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔ تازہ انتخابی سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدواروں کو ریپبلکن پارٹی کے زیر قبضہ سینیٹ کی پانچ اہم ریاستوں میں برتری حاصل ہے، جبکہ ایک اور ریاست میں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ ان نتائج سے سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور سیانا یونیورسٹی کے تازہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار ٹیکساس، کنساس، مین، اوہائیو اور الاسکا میں اپنے ریپبلکن حریفوں سے آگے ہیں، جبکہ آئیووا میں مقابلہ تقریباً برابر ہے۔

مشی گن میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے، جہاں اس وقت سینیٹ کی نشست اسی جماعت کے پاس ہے۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ووٹروں کی بڑھتی ہوئی ناراضگی، معیشت کی صورت حال اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے ریپبلکن امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور سیانا کے سروے میں ٹیکساس اور کنساس میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو خاصی برتری حاصل ہے۔ یہ دونوں روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کی مضبوط ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے آخری مرتبہ 1988 میں، جبکہ کنساس میں 1932 میں سینیٹ کا انتخاب جیتا تھا۔

ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو کو ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن پر 50 فیصد کے مقابلے میں 43 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ کنساس میں ڈیموکریٹک امیدوار کرس ہیملٹن 49 فیصد حمایت کے ساتھ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل سے آگے ہیں، جنہیں 44 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ مین میں ڈیموکریٹک امیدوار گراہم پلاٹنر کو ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز پر 51 فیصد کے مقابلے میں 45 فیصد کی برتری حاصل ہے۔ اسی طرح اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار شیروڈ براؤن 49 فیصد حمایت کے ساتھ ریپبلکن امیدوار جان ہسٹڈ سے آگے ہیں، جنہیں 44 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔

الاسکا میں ڈیموکریٹک امیدوار میری پیلٹولا کو ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان پر معمولی برتری حاصل ہے۔ سروے کے مطابق پیلٹولا کو 48 فیصد جبکہ سلیوان کو 46 فیصد حمایت حاصل ہے۔ آئیووا میں مقابلہ انتہائی سخت ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جوش ٹوریک کو 48 فیصد اور ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کو 47 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسیّد کو بھی واضح برتری حاصل ہے۔ سروے کے مطابق انہیں 53 فیصد جبکہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو 42 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ ان سروے میں الاسکا کے 610، آئیووا کے 705، کنساس کے 736، مین کے 714، مشی گن کے 1011، اوہائیو کے 717 اور ٹیکساس کے 1215 ووٹروں کی رائے حاصل کی گئی۔ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو اپنی موجودہ تمام نشستیں برقرار رکھنے کے ساتھ کم از کم چار ایسی نشستیں جیتنا ہوں گی جو اس وقت ریپبلکن پارٹی کے پاس ہیں۔

یہ ہدف اب تک مشکل سمجھا جا رہا تھا، کیونکہ جن نشستوں پر ڈیموکریٹس کو کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت ہے، ان میں سے کئی روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ ہیں۔ تاہم نیویارک ٹائمز اور سیانا یونیورسٹی کے تازہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹس نے اہم انتخابی ریاستوں میں اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے۔ اگر سروے میں ظاہر ہونے والے رجحانات برقرار رہتے ہیں اور انتخابی نتائج بھی اسی کے مطابق آتے ہیں تو ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔ سروے کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے ووٹروں کی ناراضگی اور معیشت سے متعلق ان کی پالیسیوں پر عدم اطمینان ریپبلکن امیدواروں کے لیے بڑا مسئلہ بن رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل ساتوں ریاستوں کے ممکنہ ووٹروں میں صرف 38 فیصد نے ٹرمپ کی کارکردگی کی تائید کی۔ یہ شرح خاصی کم ہے، خصوصاً اس لیے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے ان سات میں سے پانچ ریاستوں میں دس فیصد سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ڈیموکریٹس کی بہتر ہوتی ہوئی انتخابی پوزیشن کا ایک اہم سبب معیشت کو سنبھالنے کی ان کی صلاحیت پر ووٹروں کا بڑھتا ہوا اعتماد بھی بتایا جا رہا ہے۔ بالخصوص روزمرہ استعمال کی اشیا اور ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں وسط مدتی انتخابات میں ایک اہم انتخابی مسئلہ بن گئی ہیں۔

نیویارک ٹائمز اور سیانا کے سروے کے مطابق مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے معاملے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر نو فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ سروے میں شامل تمام ساتوں ریاستوں میں اس معاملے پر ڈیموکریٹک پارٹی آگے ہے۔ تاہم سروے میں ڈیموکریٹس کے لیے کچھ ممکنہ مشکلات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ووٹروں کا ایک طبقہ اب بھی فیصلہ نہیں کر پایا ہے کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دے گا۔ اس کے علاوہ جن ووٹروں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اپنی رائے قائم کی ہے، ان میں ریپبلکن امیدواروں کو نو فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ سینیٹ کے انتخابی جائزے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑی سیاسی جنگ جاری ہے۔ 3 نومبر کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں۔

این بی سی نیوز کے مطابق سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو مجموعی طور پر چار نشستوں کا اضافہ کرنا ہوگا۔ سینیٹ میں اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہیں، جن میں دو آزاد ارکان بھی شامل ہیں جو ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو تین نشستوں کا خالص اضافہ کرنا ہوگا، جس کے بعد ان کی تعداد 218 ہوجائے گی۔ این بی سی نیوز کے انتخابی سروے کے اوسط اعداد و شمار کے مطابق صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو 38 فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ 60 فیصد ان سے غیر مطمئن ہیں۔ کانگریس کے کنٹرول کے معاملے میں 52 فیصد امریکیوں نے ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول کانگریس کو ترجیح دی، جبکہ 44 فیصد ریپبلکنز کے حق میں ہیں۔

این بی سی نیوز کے ڈیسیژن ڈیسک کی انتخابی درجہ بندی کے مطابق سینیٹ کی پانچ نشستوں پر مقابلہ انتہائی سخت ہے اور کسی بھی امیدوار کی واضح برتری نہیں ہے۔ اسی طرح ایوان نمائندگان کی 11 نشستوں پر بھی سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ایوان نمائندگان کے اہم انتخابی حلقے ٹیکساس، کیلیفورنیا، اوہائیو، فلوریڈا، مشی گن، نیویارک اور پنسلوانیا میں واقع ہیں، تاہم ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی کئی نشستوں پر دلچسپ مقابلے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ دونوں سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکن پارٹی کو سخت انتخابی چیلنج کا سامنا ہے۔ ووٹروں کی معاشی مسائل پر ناراضگی اور صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت نے ڈیموکریٹس کے لیے کامیابی کی نئی امیدیں پیدا کردی ہیں۔