امریکہ نے 50 ملکوں کے شہریوں پر ویزا بانڈ عائد کیا، ہندوستان مستثنیٰ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 03-10-2026
امریکہ نے 50 ملکوں کے شہریوں پر ویزا بانڈ عائد کیا، ہندوستان مستثنیٰ
امریکہ نے 50 ملکوں کے شہریوں پر ویزا بانڈ عائد کیا، ہندوستان مستثنیٰ

 



واشنگٹن: امریکہ نے 50 ایسے ملکوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے شہریوں کو سیاحتی اور کاروباری ویزا (بی1/بی2) حاصل کرنے کے لیے 10 ہزار، 15 ہزار یا 20 ہزار امریکی ڈالر تک کا مالی بانڈ جمع کرنا ہوگا۔ اس فہرست میں جنوبی ایشیا کے بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال شامل ہیں، جبکہ ہندوستانی شہریوں کو اس شرط سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو ان ملکوں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کی، جن کے شہری بی1/بی2 ویزا کے لیے اہل قرار پانے کے بعد مالی بانڈ جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق مخصوص ملکوں کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو 10 ہزار، 15 ہزار یا 20 ہزار ڈالر کا بانڈ جمع کرنا ہوگا۔

بانڈ کی حتمی رقم ویزا انٹرویو کے دوران قونصلر افسر طے کرے گا۔ محکمہ خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ نیپال اور بنگلہ دیش کے شہریوں پر یہ شرط 21 جنوری سے نافذ ہے، جبکہ بھوٹان کو یکم جنوری سے اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ افریقہ، کیریبین، وسطی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کے کئی دیگر ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پروگرام امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ 221(g)(3) کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کے تحت قونصلر افسر ویزا جاری کرنے سے پہلے درخواست گزار سے مالی بانڈ طلب کر سکتا ہے۔

موجودہ پروگرام 3 اگست کو نافذ کیے گئے ایک حتمی ضابطے کے تحت شروع ہوا، جس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمہ کی جانب سے جاری کیے گئے بی1/بی2 ویزا پر قیام کی مقررہ مدت سے زیادہ رکنے کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جن درخواست گزاروں پر یہ شرط لاگو ہوگی، انہیں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا فارم آئی-352 بھی جمع کرانا ہوگا اور امریکی محکمہ خزانہ کے زیر انتظام ڈیجیٹل ادائیگی نظام ’Pay.gov‘ کے ذریعے بانڈ کی شرائط سے اتفاق کرنا ہوگا۔ محکمہ خارجہ نے درخواست گزاروں کو خبردار کیا ہے کہ قونصلر افسر کی ہدایت سے پہلے بانڈ جمع کرنے کی کارروائی نہ کی جائے۔

بانڈ درخواست گزار خود بھی جمع کرا سکتا ہے اور کسی تیسرے شخص، مثلاً کاروباری ساتھی، رشتہ دار یا دوست کے ذریعے بھی یہ رقم جمع کرائی جا سکتی ہے۔ اگر بانڈ کی تمام شرائط پوری کردی جائیں تو رقم اسی شخص کو واپس کی جائے گی جس نے اسے جمع کرایا تھا۔ تاہم محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بانڈ جمع کرانے سے ویزا ملنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اس بانڈ کے تحت ویزا حاصل کرنے والے افراد کے امریکہ میں داخلے اور وہاں سے روانگی کے طریقوں پر بھی سخت پابندیاں ہوں گی۔

انہیں تجارتی ہوائی اڈوں کے ذریعے سفر کرنا ہوگا، جس میں کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے پری کلیئرنس ٹرمینل بھی شامل ہیں۔ انہیں عام ہوابازی، چارٹر طیاروں، سمندری بندرگاہوں یا زمینی سرحدی راستوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ ممکنہ خلاف ورزیوں کو امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے پاس بھیجا جائے گا تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ بانڈ کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ یہ ویزا بانڈ پروگرام عارضی سیاحتی اور کاروباری سفر کے لیے امریکہ آنے والے ایسے افراد کی جانب سے مقررہ مدت سے زیادہ قیام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمہ کے اوور اسٹے سے متعلق اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا ہے۔