دھرم شالہ: امریکی کانگریس کے ارکان نے بدھ کو دھرم شالہ میں تبتی روحانی پیشوا دلائی لامہ سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ دلائی لامہ کا ماننا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات اہم ہے، جیسا کہ دونوں رہنماؤں کی حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ماسٹ نے کہا کہ دلائی لامہ کا خیال ہے کہ دنیا کے دو بڑے اور طاقتور ممالک کے سربراہوں کو ملاقات کرنی چاہیے۔
ماسٹ نے کہا، ’’ان کے تقدس مآب کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے شی جن پنگ سے ملاقات کرنا اہم تھا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ممالک کے دو رہنما ہیں۔ اس لیے یہ بہت اہم ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔‘‘ تاہم ماسٹ نے زور دے کر کہا کہ ایسی ملاقات سے چین کی جانب سے اپنے عوام، جن میں تبتی اور ایغور بھی شامل ہیں، کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش کم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’اس سے اس بات پر ہمارا یقین کسی بھی طرح کم نہیں ہوتا کہ چین کو اپنے عوام، تبتی عوام یا ایغور عوام کو دبانا نہیں چاہیے، بلکہ آزادی کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں آزادی کی حمایت کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘ ماسٹ نے کہا کہ دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات میں چین اہم موضوعات میں شامل تھا۔ اس دوران تبت کے عوام کی آزادی اور دنیا بھر میں آزادی کے نمائندے کے طور پر دلائی لامہ کے کردار پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے بہت سے موضوعات پر بات کی، یقیناً چین اہم موضوعات میں شامل تھا۔ تبت کے عوام کی آزادی، دنیا بھر میں آزادی کے نمائندے کے طور پر ان کا کردار، بالکل اسی طرح جیسے ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ دنیا بھر میں آزادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہم نے بہت سے امور پر گفتگو کی۔‘‘ چین کی جانب سے سرحدوں سے باہر بھی مبینہ دباؤ اور کارروائیوں کے خدشات کے بارے میں ماسٹ نے کہا کہ چین سے لاحق خطرہ بہت وسیع ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ لوگوں کی نگرانی کریں گے۔ وہ مختلف ممالک میں جاسوس بھیجیں گے۔ وہ مختلف ممالک میں پولیس بھیجیں گے تاکہ جس شخص کی بھی نگرانی کر سکیں اور جس چیز کو وہ پسند نہیں کرتے اسے دبایا جا سکے۔‘
‘ امریکی کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفد کے دورے نے تبتی عوام کی مشکلات کو اجاگر کیا ہے اور آزادی و جمہوریت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اسٹیونز نے کہا، ’’میں چیئرمین برائن ماسٹ کے ساتھ جمہوریت اور دنیا بھر میں آزادی، امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات، آزاد اور کھلی منڈی کی جمہوری سرمایہ داری، دھرم شالہ میں تبتی عوام کی صورتحال اور اس خواہش کے حوالے سے اس تاریخی اور اہم دورے میں شامل ہوئی ہوں کہ تبت آزاد رہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم تبتی عوام کی تاریخ کو نہیں بھولیں گے۔ ہم ان کے تقدس مآب دلائی لامہ کی طاقت اور اس بات کو نہیں بھولیں گے کہ امن اور جمہوریت کا کیا مطلب ہے۔‘
‘ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں اسٹیونز نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کی حمایت جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم خطے میں اپنے عظیم اتحادی ہندوستان کی حمایت اور اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جو ایک جمہوری، قانون پر مبنی، مساوی مواقع والی سرمایہ دارانہ تجارتی شراکت دار ریاست ہے۔‘‘ اسٹیونز نے کہا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ آزاد تجارت اور مضبوط امریکہ-ہندوستان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بھی کام جاری رکھیں گی۔ امریکی رکن کانگریس جیمز گیلاگر نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفد بات چیت جاری رکھنے اور آزادی کے لیے کھڑے ہونے کا خواہاں ہے۔
گیلاگر نے کہا، ’’ہمارے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے آزادی کی مقدس آگ کو روشن رکھنے کی بات کی تھی۔ آج کا مقصد بھی یہی ہے۔ ہم ان کے تقدس مآب سے ملاقات کر رہے ہیں، جو یہاں اور تبتی عوام کے لیے آزادی کی اس مقدس آگ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ اس کوشش میں ہم متحد ہیں۔‘‘ چین کے لیے پیغام کے بارے میں پوچھے جانے پر گیلاگر نے کہا، ’’اپنے عوام پر ظلم کرنا بند کریں اور ہر شخص کو آزاد زندگی گزارنے دیں۔ لوگوں کو حق خود اختیاری، مذہبی آزادی اور ثقافتی آزادی دیں۔‘‘