اقوام متحدہ میں وبائی امراض سے نمٹنے کے اعلامیے کی منظوری، تین ممالک مخالف

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
اقوام متحدہ میں وبائی امراض سے نمٹنے کے اعلامیے کی منظوری، تین ممالک مخالف
اقوام متحدہ میں وبائی امراض سے نمٹنے کے اعلامیے کی منظوری، تین ممالک مخالف

 



نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وبائی امراض کی روک تھام، ان سے نمٹنے کی تیاری اور ان کے پھیلاؤ کی صورت میں فوری کارروائی سے متعلق ایک سیاسی اعلامیے کو منظور کرلیا ہے۔ اعلامیے کے حق میں 153 ممالک نے ووٹ دیا، جب کہ تین ممالک نے مخالفت کی اور دو ممالک ووٹنگ کے دوران غیر جانب دار رہے۔ امریکہ اور چند دیگر ممالک کے اعتراضات کے باعث اس اعلامیے کو اتفاق رائے سے منظور نہیں کیا جاسکا تھا، جس کے بعد اسے ووٹنگ کے لیے جنرل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اعلامیے کی مخالفت کرنے والے ممالک میں ارجنٹینا، اسرائیل اور امریکہ شامل تھے، جب کہ نیوزی لینڈ اور پیراگوئے نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانب دار رہے۔

اس اعلامیے کو ابتدائی طور پر 25 ستمبر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کیا جانا تھا، لیکن امریکہ اور چند دیگر ممالک کے اعتراضات کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد معاملہ جنرل اسمبلی میں واپس بھیج دیا گیا، جہاں پیر کو ووٹنگ کے ذریعے اعلامیے کی منظوری دی گئی۔ یہ سیاسی اعلامیہ قانونی طور پر پابند نہیں ہے، لیکن اس میں وبائی امراض کی روک تھام، ان سے نمٹنے کی تیاری اور ان کے پھیلاؤ کی صورت میں مؤثر کارروائی کے لیے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں سائنسی شواہد، مساوات اور انسانی حقوق کے احترام کو رہنما اصول قرار دیا گیا ہے۔

اس میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے وبائی امراض سے متعلق معاہدے کو گزشتہ سال منظور کیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے۔ عالمی صحت کے خطرات سے نمٹنے میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے چلی کے نمائندے نے کہا کہ کوئی بھی ملک، خواہ وہ کتنا ہی بڑا یا کتنی ہی بہتر تیاری رکھنے والا کیوں نہ ہو، ایسے خطرے کا تنہا مقابلہ نہیں کرسکتا جو سرحدوں کا پابند نہ ہو۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے جنرل اسمبلی میں اعلامیے کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ان سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے رکن ممالک کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ٹیڈروس نے کہا، ’’عالمی ادارۂ صحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے اس مضبوط عزم کا خیرمقدم کرتا ہے کہ وہ وبائی امراض کی روک تھام، ان سے نمٹنے کی تیاری اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔ اس سلسلے میں انہوں نے جراثیم اور بیماری پیدا کرنے والے عوامل تک رسائی اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم کے نظام، جسے پی اے بی ایس کہا جاتا ہے، پر مذاکرات مکمل کرنے کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔ ان مذاکرات کی تکمیل عالمی ادارۂ صحت کے وبائی امراض سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ٹیڈروس نے کہا، ’’کووڈ-19 کے بعد دنیا نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ ہم ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ اب وہ اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں، خصوصاً بیماری پیدا کرنے والے عوامل تک رسائی اور فوائد کی تقسیم کے نظام سے متعلق ضمیمے پر مذاکرات مکمل کریں، تاکہ عالمی ادارۂ صحت کے وبائی امراض سے متعلق معاہدے پر دستخط کا راستہ کھل سکے، اس کی توثیق کا عمل شروع ہو اور وہ بین الاقوامی قانون کی حیثیت سے نافذ ہوسکے۔‘‘ اس معاہدے کو دستخط کے لیے پیش کرنے سے پہلے رکن ممالک کو پی اے بی ایس سے متعلق ضمیمے پر مذاکرات مکمل کرنا ہوں گے۔

اس ضمیمے کے تحت بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے نمونے اور ان کے جینیاتی اعداد و شمار ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کا نظام قائم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ان نمونوں اور معلومات کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی تقسیم کے اصول بھی طے کیے جائیں گے۔ مجوزہ نظام کے تحت جو ممالک جراثیم کے نمونے اور جینیاتی معلومات فراہم کریں گے، انہیں ان کی بنیاد پر تیار ہونے والی ویکسین، علاج اور تشخیصی سہولتوں میں مناسب حصہ مل سکے گا۔ تاہم، اس ضمیمے پر مذاکرات ترقی پذیر ممالک اور یورپ کے بعض زیادہ آمدنی والے ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔ امریکہ بھی اس معاملے پر اختلافات رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی عالمی اسمبلی، جس میں ادارے کے 194 رکن ممالک شامل ہیں، آئندہ مئی میں ان مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے غور کرے گی۔ امریکی نمائندے نے اس سے قبل اعلامیے پر اعتراض کرتے ہوئے ایسی ’’تقسیم پیدا کرنے والی نظریاتی باتوں‘‘ کا حوالہ دیا تھا جن کی تعریف پر اتفاق رائے موجود نہیں۔ انہوں نے پی اے بی ایس ضمیمے پر جاری مذاکرات کے تذکرے پر بھی اعتراض کیا تھا۔ دریں اثنا، عالمی ادارۂ صحت نے پیر کو وبائی اور متعدی امراض سے متعلق اپنی انٹیلی جنس کے مرکز کے لیے پانچ سالہ حکمت عملی کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد ابھرتے ہوئے صحت کے خطرات کی 24 گھنٹوں کے اندر شناخت کرنا ہے۔ یہ مرکز کووڈ-19 کی وبا کے دوران 2021 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد دنیا کے ہر ملک کو ابھرتے ہوئے صحت کے خطرات کی فوری شناخت اور ان کی نوعیت سمجھنے کے قابل بنانا ہے، تاکہ وبائی صورت اختیار کرنے یا بین الاقوامی سطح پر پھیلنے سے پہلے ہی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔