ماسکو: یوکرین نے جمعہ کی صبح روس کے سمارا علاقے میں ایک تیل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے ساتھ ہی روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کا دو ہفتے کا وقفہ ختم ہوگیا۔ یہ وقفہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دباؤ کے بعد آیا تھا، جس نے یوکرین سے ایسے حملے روکنے کی اپیل کی تھی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملے کا نشانہ نووکوئیبیشیوسک آئل ریفائنری تھی۔
یوکرین کے میڈیا نے بتایا کہ 30 اکتوبر کی رات ایک مشتبہ یوکرینی ڈرون حملے کے بعد ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج میں ریفائنری کے اوپر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اس حملے کو روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرین کے حملوں کی دوبارہ شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اکتوبر کے وسط میں غیر رسمی طور پر ان حملوں کو روک دیا گیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے 29 اکتوبر کو اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ طویل فاصلے تک حملے کرنے والے یوکرینی فوجی دستوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے بعد روسی ریفائنریوں پر حملے عارضی طور پر روک دیے تھے۔ رپورٹ میں ان کارروائیوں سے واقف حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ روس کی تیل تنصیبات پر حملوں کا یہ وقفہ امریکہ میں ہونے والے آئندہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہنے کی توقع تھی۔ یوکرین کے میڈیا کے مطابق نووکوئیبیشیوسک ریفائنری روس کی سرکاری تیل کمپنی روزنیفٹ کی ملکیت ہے۔
اس ریفائنری میں سالانہ تقریباً 88 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل صاف کیا جاتا ہے۔ یہاں طیاروں میں استعمال ہونے والا ایندھن، پٹرول، ڈیزل، چکنا کرنے والے تیل اور پیٹرولیم کی دوسری مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ اس ریفائنری کو اس سے پہلے بھی یوکرین کے ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں اگست 2026 کا حملہ بھی شامل ہے۔ یوکرین روس کی تیل ریفائنریوں، ایندھن کے گوداموں اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مہم چلا رہا ہے۔
اس کا مقصد روسی فوج کو ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا اور ان آمدنی کے ذرائع کو کم کرنا ہے جن سے روس یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے اخراجات پورے کرتا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے موسم سرما سے پہلے اپنے ملک کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے یورپی یونین سے مزید مدد کی اپیل کی ہے۔ روسی حملوں میں ملک بھر میں 19 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے حملوں کے بعد یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ ان حملوں میں دنیپرو کے ریلوے اسٹیشن اور چرنیہیف اور کریمنچوک کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
زیلنسکی نے کہا، ’’آپ کے تعزیتی پیغام کے لیے شکریہ، انتونیو۔ آج روس نے انتہائی بے رحمانہ حملے کیے، جن میں 19 افراد کی جانیں چلی گئیں۔ مزید 71 افراد زخمی ہوئے، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے کئی اس وقت اسپتالوں میں ہیں۔ ہمارے طبی کارکن ان کا علاج کر رہے ہیں اور جانیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے ماسکو پر الزام لگایا کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور جنگ ختم کرنے کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے عالمی برادری کی مسلسل حمایت انتہائی ضروری ہے۔ زیلنسکی نے کہا، ’’روس ایک بار پھر کشیدگی کم کرنے اور یوکرین، امریکہ، یورپ اور دنیا بھر میں ہمارے دیگر شراکت داروں کی جنگ ختم کرنے اور قتل و غارت روکنے کی کوششوں کے بارے میں اپنا اصل رویہ دکھا رہا ہے۔‘‘ زیلنسکی نے خاص طور پر یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کی مدد کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما کی تیاری کے دوران یہ مدد مزید ضروری ہے، کیونکہ اس موسم میں اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے یوکرین کے لیے اضافی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب انتونیو کوسٹا نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کیف کی حمایت جاری رکھنے اور ماسکو پر دباؤ بڑھانے کے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کیا۔ یورپی کونسل کے صدر نے ایکس پر اپنے پیغام میں ان حملوں کو ’’یوکرین کے شہریوں کے خلاف روسی حملوں کا ایک اور ظالمانہ اور تباہ کن سلسلہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے دنیپرو کے ریلوے اسٹیشن پر ڈرون حملے اور چرنیہیف اور کریمنچوک کے رہائشی علاقوں پر حملوں کے بعد زیلنسکی اور یوکرین کے عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔
کوسٹا نے کہا، ’’یورپی یونین اس وقت تک روس پر دباؤ بڑھاتا رہے گا اور یوکرین کی حمایت کرتا رہے گا، جب تک منصفانہ اور پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا۔ ہم اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘ اس سے پہلے زیلنسکی نے بتایا تھا کہ دنیپرو کے ریلوے اسٹیشن پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے، جبکہ چرنیہیف میں دو 15 سالہ لڑکیاں ہلاک ہوئیں اور کریمنچوک میں روسی ساختہ شاہد ڈرون کے ایک رہائشی عمارت سے ٹکرانے کے بعد تین افراد کی موت ہو گئی۔ انہوں نے ان حملوں کو عام شہریوں کے خلاف دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے روس پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی اپیل کی۔ زیلنسکی نے یورپی یونین، امریکہ اور جی 7 ممالک سے ماسکو کے خلاف پابندیاں مزید سخت کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔