بوظہبی۔متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کے مشیر انور قرقاش نے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے کاک پٹ میں ہونے والے حملے کو ’’خطرناک دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی اعلیٰ اماراتی عہدیدار نے اس واقعے کو باضابطہ طور پر دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
انور قرقاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ہندوستانی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سمت مچھر نے خطرناک اور ممکنہ تباہ کن کارروائی کا سامنا کرتے ہوئے حوصلے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
یہ واقعہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا تھا۔ طیارہ دبئی سے تل ابیب جا رہا تھا جب مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں کیپٹن سمت مچھر پر حملہ کردیا۔ حملے کے دوران طیارہ تیزی سے نیچے جانے لگا۔ زخمی ہونے کے باوجود سمت مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا جس کے بعد عملے اور مسافروں کو حملہ آور کو قابو کرنے اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد ملی۔ بعد میں طیارے نے سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔
انور قرقاش نے کہا کہ انتہائی مشکل صورتحال میں سمت مچھر کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ذمہ داری قابل ذکر ہے۔ انہوں نے واقعے کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر چوکسی ضروری ہے۔یہ واقعہ ابھی مختلف اداروں کی تحقیقات کے دائرے میں ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی ہیں کہ آیا واقعے کے پیچھے دہشت گردانہ مقصد تھا یا نہیں۔ سعودی عرب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق شریک پائلٹ نے دوران پرواز کپتان پر حملہ کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر شدت پسندانہ اسلامی نظریات سے متاثر ہو کر یہ کارروائی کی تھی۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور حملے کے حتمی محرکات کے بارے میں سرکاری تحقیقات مکمل ہونا باقی ہیں۔ کیپٹن سمت مچھر اس وقت متحدہ عرب امارات میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ طیارے میں موجود افراد کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا۔