بلوچستان: فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں 2 افراد ہلاک۔

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
بلوچستان: فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں 2 افراد ہلاک۔
بلوچستان: فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں 2 افراد ہلاک۔

 



بلوچستان۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نوشکی اور کیچ اضلاع میں فائرنگ کے 2 الگ الگ واقعات میں 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد کا ایسے مسلح گروہوں سے تعلق تھا جنہیں مقامی باشندے اور کارکن ریاستی حمایت یافتہ ’ڈیتھ اسکواڈز‘ قرار دیتے ہیں۔ بلوچستان پوسٹ نے یہ رپورٹ پیش کی ہے۔بلوچستان پوسٹ کے مطابق نوشکی میں قادر آباد بائی پاس کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس میں قاضی آباد کے رہائشی شاہ خالد ہلاک ہوگئے جبکہ عبدالروف باریک زخمی ہوئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ خالد ایک ایسے مسلح گروہ سے وابستہ تھے جسے مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حملے کے حالات اور اس کے محرکات ابھی واضح نہیں ہیں۔ کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔حکام نے بھی فائرنگ یا ہلاک ہونے والے شخص کے مبینہ تعلق کے بارے میں عوامی طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

فائرنگ کا ایک الگ واقعہ کیچ ضلع کے بُلیڈا کے علاقے زِردان میں پیش آیا۔ یہاں نامعلوم مسلح افراد نے حامد نامی ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ سید کے بیٹے بتائے جاتے ہیں۔مقامی ذرائع نے حامد کو علاقے میں سرگرم ایک ریاستی حمایت یافتہ ملیشیا سے وابستہ قرار دیا ہے۔ مقامی باشندوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حامد چوری اور ٹارگٹ کلنگ سمیت جرائم میں ملوث تھے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور کسی سرکاری ادارے نے بھی ان کی تصدیق نہیں کی۔

یہ دونوں ہلاکتیں بلوچستان میں جاری تشدد اور مسلح گروہوں سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کے پس منظر میں ہوئی ہیں۔ مقامی باشندے۔ قوم پرست سیاسی گروہ اور انسانی حقوق کے کارکن طویل عرصے سے ایسے مسلح گروہوں کے لیے ’ڈیتھ اسکواڈز‘ کی اصطلاح استعمال کرتے رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا الزام ہے کہ انہیں پاکستانی فوج یا انٹیلی جنس اداروں کی حمایت حاصل ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور جبری گمشدگیوں۔ دھمکیوں۔ ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد واقعات سے متاثرہ خاندانوں نے بھی ایسے گروہوں پر الزامات عائد کیے ہیں۔ کیچ۔ پنجگور۔ خضدار۔ آواران اور مستونگ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اس نوعیت کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ ریاستی ادارے ایسے مسلح گروہوں کی سرپرستی یا انہیں کنٹرول کرتے ہیں۔