سعودی عرب میں حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ، فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
سعودی عرب میں حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ، فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام
سعودی عرب میں حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ، فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام

 



ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے خمیس مشیط فضائی اڈے کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر کئی مہلک حملوں کے بعد ملک میں سلامتی کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا، ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

‘‘ اس سے پہلے سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے خمیس مشیط گورنری میں رہنے والوں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر چوکس رہنے کی ہدایت دی تھی۔ بعد میں محکمے نے ایکس پر بتایا کہ خمیس مشیط میں خطرہ ٹل گیا ہے۔ شہریوں سے کہا گیا کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل جاری رکھیں، بھیڑ جمع کرنے اور واقعات کی ویڈیو بنانے سے گریز کریں اور ہنگامی صورت حال میں 998 پر رابطہ کریں۔ یہ کارروائی حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے اس دعوے کے بعد ہوئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے گروپ نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور خمیس مشیط فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کیا۔

سریع نے منگل کو ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا، ’’اللہ کے فضل اور مدد سے ہماری مسلح افواج نے آج شام دشمن کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور حملہ درست نشانے پر لگا۔‘‘ انہوں نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں اور مسافروں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں چلانے سے بھی خبردار کیا اور دعویٰ کیا کہ وہاں پروازیں محفوظ نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔

حوثی ترجمان نے مزید کہا کہ ان کی مسلح افواج نے ڈرون کے ذریعے خمیس مشیط فضائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا اور حملہ براہ راست ہدف پر لگا۔ حملوں میں اضافے کے درمیان ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق، اردوان نے انقرہ میں کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کے بعد کہا، ’’ہم ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں، جن میں عمرہ ادا کرنے والے افراد بھی شامل تھے، کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمی ہونے والے سیکڑوں افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

اردوان نے کہا، ’’ترکی ان حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب اور اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے، جو قانون اور انسانیت دونوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پورے خطے میں امن اور استحکام قائم رہے۔‘‘ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کو دوبارہ فعال کرنے، خصوصاً سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے اور خطے کے اجتماعی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ قرقاش نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حالیہ حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔

سعودی عرب کو نشانہ بنانے کا مطلب متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ممالک کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’عرب خلیجی ممالک کے خلاف جارحیت شروع ہونے کے بعد، جارح ملک نے غلط اندازہ لگایا تھا کہ ہم اس جنگ کی سب سے کمزور کڑی ہیں، جس سے ہم بچنا چاہتے تھے۔ لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ ہم سب نشانے پر ہیں اور ہماری سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ برادر ملک سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے متحدہ عرب امارات اور تمام خلیجی ممالک کی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔‘‘

قرقاش نے مزید کہا، ’’خلیجی ممالک کے مشترکہ تعاون کو دوبارہ فعال کرنے، خاص طور پر سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں، اور اجتماعی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ اس شعبے کو سنگین حد تک نظرانداز کیا گیا ہے، جس سے دوسروں کو ہمارے خلاف حد سے تجاوز کرنے کی ہمت ملی ہے۔ خلیجی سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں نہ غفلت کی گنجائش ہے اور نہ تاخیر کی۔‘‘ ادھر ریاض میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ سلامتی کے واقعات کی تصاویر لینے کے الزام میں امریکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم، سفارت خانے نے نہ تو حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ انہیں رہا کیا گیا ہے یا نہیں۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا، ’’حالیہ واقعات کی تصاویر لینے پر امریکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘‘ اس نے یہ بھی خبردار کیا کہ سعودی حکام کے مطابق، میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں اور ان کے گرنے یا حملے کے مقامات سے متعلق معلومات کی ویڈیو بنانا، انہیں شائع کرنا یا دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کی سرکاری فوج حوثیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، یمنی فوج کے ترجمان مجید النزیلی نے بتایا کہ سرکاری فوج نے حوثیوں کے قبضے والے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے شروع کی گئی ’فجرِ یمن‘ مہم کے تحت گروپ کے خلاف 1,879 حملے کیے ہیں۔ النزیلی نے کہا کہ حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جنگی طیاروں، توپ خانے اور راکٹ لانچروں کا استعمال کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 380 فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں اور حوثیوں کی جانب سے اپنے ٹھکانوں کو مضبوط بنانے اور اپنی فوجوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔

اس سے پہلے بھی سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔ یہ واقعات سعودی عرب کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر کہا تھا، ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔‘‘ 10 اکتوبر کو شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک مہلک حملے میں ایک ہندوستانی شہری سمیت 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے 11 اکتوبر کو جاری بیان میں اس واقعے میں 12 افراد کی ہلاکت اور 309 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ بعد میں ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔ اس سے قبل 6 اور 7 اکتوبر کو شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سعودی شہری ہوابازی کے ادارے کے مطابق، ان واقعات میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔ نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی جانچ مکمل کرنے کے لیے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر روک دی گئی تھی۔ اس دوران متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کیے گئے۔