رکن پارلیمنٹ کے مطابق معاہدے کی توثیق سے متعلق بل منظور ہونے کے بعد فوجی تعیناتی کی اجازت دینے والی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ ترکی نے اگست میں تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو توثیق کے لیے منگل کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔
اس پیش رفت کے ساتھ نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج رکھنے والا ترکی سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ باہمی دفاعی عہد کی جانب ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی بنیاد ملنے کی توقع ہے۔