واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جو 1990 سے اب تک وال اسٹریٹ جرنل کے انتخابات سے متعلق سروے میں وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی صدر کے لیے سب سے کم شرح ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کو درپیش وسیع تر مشکلات کے درمیان سامنے آئی ہے، جن میں ایران کے ساتھ جاری تنازع اور تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی سے جڑے معاشی خدشات شامل ہیں۔
پولیٹیکو کے مطابق ٹرمپ جلد ہی ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم شروع کریں گے اور ان ریاستوں کا دورہ کریں گے جہاں ریپبلکن پارٹی کو مضبوط حمایت حاصل ہے۔ معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتخابات سے قبل آئیوا، فلوریڈا، ٹیکساس اور الاسکا میں انتخابی مہم چلائیں گے۔ ان افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان منصوبوں کے بارے میں بتایا، کیونکہ یہ ابھی عوامی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ ٹرمپ اگلے ہفتے اوکلاہوما کا طے شدہ دورہ بھی کریں گے۔
دریں اثنا، اے بی سی نیوز کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹروں کی تصدیق کے لیے وفاقی شہریت کے ڈیٹا بیس کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 6-3 کے فیصلے میں نچلی عدالت کے اس حکم کو معطل کردیا، جس کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو 40 سال پرانے امیگریشن ڈیٹا بیس کو وسعت دینے سے روکا گیا تھا۔ اس ڈیٹا بیس کا استعمال ریاستوں کو ووٹر ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں مدد دینے کے لیے کیا جانا ہے تاکہ غیر شہری ووٹروں کی شناخت کی جاسکے۔ ٹرمپ غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے کو آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو ختم کرنے کی کھلی دھمکی بھی دی تھی۔
ٹرمپ نے 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا، ’’مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ملک بننے کی اجازت دے، شاید مشرق وسطیٰ یا حتیٰ کہ دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو ختم کردوں، اور یہ کام تیزی سے کروں، تاکہ اسے دوبارہ لوگوں اور ممالک کو ہلاک اور تباہ کرنے کا موقع نہ ملے؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ہم ایک معاہدہ کرلیں گے، کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘
‘ دریں اثنا، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا تھا کہ ایران نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع ختم کرنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔