ایران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
ایران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی
ایران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی

 



واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اسلامی جمہوریہ کے خلاف طاقتور اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کو بھی دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ درمیانی مدت کے انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران الاسکا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے بارے میں جارحانہ لہجہ اختیار کیا اور اشارہ دیا کہ امریکہ اب اس معاملے میں صبر کھوتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’انتظار کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ ہم ایران کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ہم اس کے خلاف زبردست کارروائی کرنے والے ہیں۔ انتظار کیجیے، پھر دیکھیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’وہ بس انتظار کر رہے ہیں۔ انتظار کر رہے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ہم ایران کے ساتھ کیا کرتے ہیں، کیونکہ اب ہمارے صبر کی حد ہو چکی ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے ایسا ہتھیار حاصل کرنے دیا جائے گا۔ وہ ہزاروں ٹن چٹانوں کے نیچے دفن ہے۔‘‘ ٹرمپ کا یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پینٹاگون کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کے پیش نظر تیاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی ویب سائٹ ’ایکسِیوس‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کو چند روز پہلے ہدایت دی گئی کہ وہ ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے ممکنہ منصوبے کی تیاری مکمل کرے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق، اس ہدایت میں کسی ممکنہ حملے کی تاریخ طے نہیں کی گئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ نئی فوجی کارروائیاں 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے شروع ہو سکتی ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ کارروائیاں اسرائیل میں متوقع انتخابات سے بھی پہلے ہو سکتی ہیں، جو اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہونے ہیں۔

تاہم، ٹرمپ نے بعد میں ایران پر نئے حملوں کے امکان سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ’’نتیجہ خیز بات چیت‘‘ جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مذاکرات جاری رہنے کے باوجود آبنائے ہرمز کے راستے ایرانی بحری آمدورفت پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس اہم سمندری راستے سے ریکارڈ مقدار میں تیل گزر رہا ہے، جس میں ایران کا کوئی تیل شامل نہیں ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری نتیجہ خیز بات چیت ہو رہی ہے۔ میں سب پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایران کی معاشی اور فوجی حالت انتہائی خراب ہے اور ناکہ بندی پوری سختی کے ساتھ برقرار رہے گی۔ اس کے باوجود آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل گزر رہا ہے۔ صرف گزشتہ رات 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل اس راستے سے گزرا، جس میں ایک بیرل بھی نہ ایران سے آیا اور نہ ایران کی طرف گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم 3 نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا!‘‘