واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ تائیوان نے الاسکا کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) منصوبے سے اگلے 20 برسوں کے دوران 70 سے 80 ارب ڈالر کی گیس خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ تائیوان اس منصوبے میں 4.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرے گا۔ ٹرمپ نے اس منصوبے میں جنوبی کوریا کی جانب سے 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’میں ابھی الاسکا کی تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، یعنی الاسکا ایل این جی منصوبے کا آغاز کرکے آیا ہوں۔ جنوبی کوریا کی جانب سے اس بنیادی ڈھانچے کے منصوبے میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میرے ساتھ ہونے والے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کا حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’آج میں یہ اعلان بھی کر رہا ہوں کہ میرے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے تائیوان کی جانب سے الاسکا ایل این جی کی 70 سے 80 ارب ڈالر کی گیس خریدنے کی یقین دہانی حاصل کر لی ہے۔ یہ اگلے 20 برسوں کے دوران گیس پائپ لائن کی 30 فیصد صلاحیت کے برابر ہے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا گیس خریداری معاہدہ ہے۔‘
‘ ٹرمپ نے کہا کہ تائیوان نے اس منصوبے میں 4.4 ارب ڈالر کی ایکویٹی سرمایہ کاری پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق، اب یہ امریکی وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے اور اس کے لیے تمام ضروری اجازت نامے اور منظوری حاصل کر لیے گئے ہیں، اس لیے منصوبہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ الاسکا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور ایسا صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب میں وائٹ ہاؤس میں ہوں۔‘‘ تاہم، تائیوان کی سرمایہ کاری کی مخصوص شرائط کے بارے میں ابھی مزید مذاکرات اور تجارتی معاہدے ہونا باقی ہیں۔
’تائپے ٹائمز‘ کے مطابق، تائیوان کی وزارتِ اقتصادی امور نے کہا ہے کہ سرکاری کمپنی سی پی سی کارپوریشن، تائیوان، الاسکا میں گیس کی پیداوار شروع ہونے کے بعد ہر سال 60 لاکھ ٹن ایل این جی خریدے گی۔ یہ خریداری گزشتہ سال مارچ میں دستخط کیے گئے خطِ ارادہ کے مطابق ہوگی۔ وزارت نے بتایا کہ سی پی سی اس منصوبے کی تیاری میں بھی سرمایہ کاری کرے گی، جس میں 1,299 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن کی تعمیر شامل ہے۔
وزارت کے مطابق، اگر منصوبہ طے شدہ وقت کے مطابق شروع ہو گیا تو تائیوان کو 2032 سے گیس کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، وزارت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ گیس کی خرید و فروخت کا کوئی پابند معاہدہ طے پا چکا ہے یا نہیں۔ ’تائپے ٹائمز‘ کے مطابق، وزارت نے کہا، ’’سرمایہ کاری کے مخصوص انتظامات، ایکویٹی میں حصے داری اور اس سے متعلق دیگر شرائط کا تعین آئندہ مذاکرات اور تجارتی معاہدوں کے مراحل کے دوران کیا جائے گا۔‘‘ وزارت کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری سے تائیوان کو ایل این جی کی فراہمی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، گیس کی فراہمی اور تقسیم کو زیادہ لچک دار بنانے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط کرنے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات گہرے کرنے میں مدد ملے گی۔
الاسکا سے بحرالکاہل کے راستے تائیوان کو براہِ راست گیس بھیجی جا سکے گی، جس سے جغرافیائی و سیاسی خطرات کم کرنے کے لیے ایک متبادل راستہ دستیاب ہوگا۔ الاسکا ایل این جی منصوبے کے تحت ہر سال دو کروڑ ٹن مائع قدرتی گیس تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے الاسکا کے شمالی علاقے میں موجود قدرتی گیس کو پائپ لائن کے ذریعے ریاست کے جنوبی حصے میں قائم برآمدی مرکز تک پہنچایا جائے گا۔ منصوبے کے ذمہ دار ادارے رواں سال کے اختتام تک پائپ لائن کے بارے میں سرمایہ کاری کا حتمی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ برآمدی مرکز کے متعلق فیصلہ اگلے سال متوقع ہے۔ منصوبے سے گیس کی ابتدائی برآمدات 2031 میں شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
’تائپے ٹائمز‘ کے مطابق، اس منصوبے کے لیے ایشیا کے خریداروں اور فرانس کی توانائی کمپنی ٹوٹل انرجیز کے ساتھ سالانہ ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن گیس کی فراہمی سے متعلق معاہدے ہو چکے ہیں۔ منصوبے کو مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے مزید 30 لاکھ ٹن گیس کی خریداری کی یقین دہانی درکار ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاہدوں کو پابند تجارتی معاہدوں میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا تھا کہ اگر سیول نے الاسکا کی گیس پائپ لائن کے منصوبے میں جلد سرمایہ کاری کا فیصلہ نہیں کیا تو اس کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ جنوبی کوریا ابھی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میرین ون ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا، ’’ان سے کہہ دیجیے کہ اگر انہوں نے جلد دستخط نہیں کیے تو میں اس کی قیمت دوگنی کر دوں گا۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے جنوبی کوریا کی شرکت کا اعلان قبل از وقت کر دیا تھا تو ٹرمپ نے کہا، ’’نہیں، میں نے جلد بازی نہیں کی۔ میرا مطلب ہے کہ وہ وہاں موجود تھے اور ان کی نمائندگی بھی تھی۔ اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ منصوبہ نہیں کرنا چاہتے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں ان سے بس زیادہ رقم وصول کروں گا۔