ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے انکار، زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 16-10-2026
ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے انکار، زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں
ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے انکار، زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں

 



واشنگٹن،: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جاری تنازع کے دوران امریکہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے امکان میں بھی کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ تاہم، امریکی فوج ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نئے منصوبے تیار کر رہی ہے، جن میں ’مدر آف آل بمز‘ یعنی انتہائی طاقت ور غیر جوہری بم کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔ نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ زیر بحث بم جوہری ہتھیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے واشنگٹن کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’دیکھیے، مدر آف آل بمز جوہری بم نہیں ہے۔ یہ بالکل بھی جوہری نہیں ہے۔ یہ صرف ایک انتہائی بڑا بم ہے۔ یہ ایک چھوٹے جوہری بم جیسا ہے، لیکن مدر آف آل بمز ایک بہت بڑا روایتی بم ہے۔ نہیں، میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران میں امریکی فوجی دستے بھیجنے پر غور کریں گے تو ٹرمپ نے جواب دیا، ’’مجھے ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ بالکل نہیں۔‘‘

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی فوج ایران کے خلاف مزید حملوں کے امکانات پر کام کر رہی ہے۔ ان میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس دوران تنازع کے مستقبل اور مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات کے بارے میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ سی این این نے فوجی منصوبہ بندی سے واقف حکام کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے فوج کو حملوں کے مزید منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان میں جی بی یو-43/بی نامی طاقت ور بم، جسے ’مدر آف آل بمز‘ یا ایم او اے بی کہا جاتا ہے، استعمال کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور پِک ایکس ماؤنٹین جیسی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ ان ممکنہ اہداف میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہت سی تنصیبات شامل ہیں۔ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق، پِک ایکس ماؤنٹین سمیت ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے منصوبوں میں ایم او اے بی کے ممکنہ استعمال کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اگر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان منصوبوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے اور روس و چین کے ساتھ جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق جاری بات چیت پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے برسوں میں چین جوہری طاقت کے معاملے میں امریکہ سے اپنا فاصلہ کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت ہیں۔ ہمارے پاس روس سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔ روس دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہے۔ چین ہم سے بہت پیچھے ہے، لیکن پانچ سال کے اندر وہ ہماری برابری کر لے گا۔ یہ افسوس ناک ہے، کیونکہ اگر ممکن ہو تو میں جوہری ہتھیاروں میں کمی اور ان کے خاتمے کا خواہش مند ہوں۔‘‘

ٹرمپ نے مزید کہا، ’’ہم اس معاملے پر روس سے بات کر رہے ہیں اور چین سے بھی جوہری تخفیف اسلحہ کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ ہم اس موضوع پر بات کرتے رہتے ہیں اور کافی بات چیت ہوتی ہے۔‘‘ امریکی صدر نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکیں، کیونکہ میری رائے میں اگر ان کے پاس ایسا ہتھیار آ گیا تو وہ اسے فوراً استعمال کریں گے۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے ان کی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کی جوہری تنصیبات پہاڑ کے اندر لاکھوں ٹن چٹانوں کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ اب ہم پِک ایکس ماؤنٹین پر غور کر رہے ہیں۔ ممکن ہے ہمیں وہاں بھی کارروائی کرنی پڑے۔ ہم اس مقام کو بھی نشانہ بنائیں گے اور اسے جلد تباہ کر دیں گے۔‘‘ سی این این کے مطابق، ایم او اے بی کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے فوجی منصوبہ بندی سے واقف حکام نے سوال اٹھائے ہیں، خصوصاً یہ کہ آیا یہ بم زمین کے اندر انتہائی مضبوط حفاظتی انتظامات کے ساتھ تعمیر کی گئی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔

جی بی یو-43/بی کا وزن تقریباً 21,600 پاؤنڈ، یعنی لگ بھگ 9,800 کلوگرام ہے۔ یہ امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے میں شامل سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے۔ اسے وسیع علاقے میں شدید دھماکے کے ذریعے تباہی پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، لیکن سی این این کے حوالے سے ذرائع کے مطابق، زمین کے اندر بہت گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کی اس کی صلاحیت محدود ہے۔ فوجی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ یہ بم زمین کے اندر گہرائی تک پہنچنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ ذریعے نے کہا، ’’ایم او اے بی ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، جو وسیع علاقے کو صاف کرنے یا وہاں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے مؤثر ہے، لیکن اس کے علاوہ اس کی افادیت محدود ہے۔‘

‘ ذریعے نے مزید کہا، ’’یہ یقینی طور پر زمین کے اندر گہرائی تک پہنچ کر ہدف کو تباہ کرنے والے وارہیڈ کے طور پر تیار نہیں کیا گیا۔‘‘ پِک ایکس ماؤنٹین میں واقع مشتبہ جوہری تنصیبات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گرینائٹ کی کئی تہوں کے نیچے محفوظ ہیں۔ اسی وجہ سے شکوک پیدا ہو رہے ہیں کہ آیا ایم او اے بی زیر زمین ان تنصیبات کو تباہ کر پائے گا یا نہیں۔ ٹرمپ 2017 میں ایم او اے بی کو جنگ میں استعمال کرنے کی اجازت دینے والے پہلے امریکی صدر بنے تھے۔ اس وقت افغانستان میں شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر یہ بم گرایا گیا تھا۔