واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک نقشہ شیئر کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو ’’ٹرمپ اسٹریٹ‘‘ کے نام سے دکھایا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کے لیے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ایران کبھی جوہری بم حاصل نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا کہ تہران ان کی شرائط پر عمل کرے گا اور خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ بمباری شروع کیے جانے کا امکان بدستور موجود ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اگر واشنگٹن تہران کی شرائط تسلیم کرلے تو آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمد و رفت سات دن کے اندر بحال کی جاسکتی ہے۔ ایرانی تجویز میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے اور لبنان کو شامل کرتے ہوئے جنگ بندی کا احترام کرے۔ عراقچی نے کہا، ’’اگر ضروری شرائط پوری کردی جائیں تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جاسکتی ہے اور سات دن کے اندر معمول کی بحری آمد و رفت بحال کی جاسکتی ہے۔ اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔
‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’سات دن کی مدت اسی وقت شروع ہوگی جب امریکہ اس منصوبے کو قبول کرے گا۔‘‘ یہ پیش رفت آبنائے ہرمز پر ممکنہ امریکی کنٹرول کے بارے میں ٹرمپ کے پہلے بیانات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اگست میں بھی ٹرمپ نے ایک نقشہ شیئر کیا تھا، جس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ یہ آبی راستہ ’’امریکہ کا نیا علاقہ‘‘ بن سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے خیال کو ’’بہت اچھا خیال‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری بحری ناکہ بندی کے ذریعے امریکہ عملاً اس آبنائے کو کنٹرول کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا تھا، ’’میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھا خیال ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ہم ناکہ بندی کے ذریعے اسے کنٹرول کر رہے ہیں۔ مجھے اسے ایک علاقہ قرار دینے کا خیال پسند ہے۔ آبنائے پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔‘‘ ٹرمپ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ایران بارودی سرنگیں بچھا کر بحری آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کامیاب رہی ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایران کے لیے ایک اہم تزویراتی ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق جنگ سے پہلے دنیا میں تجارت کیے جانے والے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اس اہم آبی راستے سے گزرتا تھا۔ مسلسل بحری رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھایا ہے۔ ایران کی تازہ تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایران پر عائد جامع پابندیاں اٹھانے اور اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے براہ راست مشروط کیا گیا ہے۔