واشنگٹن۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ممکنہ امریکی حملے کا فیصلہ آخری وقت میں تبدیل کر دیا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حملے کے لیے اہداف کی فہرستوں کی منظوری دی جا چکی تھی اور امریکی جنگی طیاروں پر بم بھی لادے جا رہے تھے۔ تاہم ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے فوری فوجی مدد کی اپیل کے باوجود کارروائی روک دی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کافی عرصے سے بحیرہ احمر کے قریب ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکی فوجی مداخلت کا مطالبہ کر رہا تھا۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب سعودی عرب کے ولی عہد اور ملک کے حقیقی حکمران محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے براہ راست فون پر بات کی اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے فوری امریکی مدد طلب کی۔
امریکی حکام کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ اس گفتگو سے ایک روز قبل ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری لڑائی میں مداخلت کے بارے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ولی عہد محمد بن سلمان سے جمعرات کو ہونے والی گفتگو کے بعد ٹرمپ نے اپنا موقف تبدیل کیا اور پینٹاگون کے حکام کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کی تیاری کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق اتوار تک ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔ امریکی حکام نے تصدیق کی کہ فی الحال حوثیوں کے خلاف کوئی امریکی فضائی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ ٹرمپ نے آخری لمحے میں حکمت عملی تبدیل کی۔ اس وقت امریکی کمانڈروں نے اہداف کی فہرستوں کی منظوری دے دی تھی۔ فوجی اہلکار امریکی جنگی طیاروں پر بم لاد رہے تھے اور حملوں کا سلسلہ شروع ہونے ہی والا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے اس پالیسی تبدیلی کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اور امریکہ اپنے اتحادیوں کا ہمیشہ دفاع کرے گا۔
ایک اور اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے کی اکثریت سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں شدید شکوک و شبہات رکھتی ہے یا اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی فوج کو پہلے ہی درپیش دباؤ بھی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ حوثیوں نے امریکہ کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
فاکس نیوز کے نمائندے ٹرے ینگسٹ نے بتایا کہ ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن حوثیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حوثیوں نے امریکہ کے خلاف جنگ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ حوثی خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ 12 ستمبر کو آئرلینڈ کے دورے کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ حوثیوں نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہفتے کے اختتام پر دارالحکومت ریاض کو میزائل حملے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
حوثیوں نے یمن میں بھی تیزی سے پیش قدمی کی ہے اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ ایران کے معاملے پر بھی ابھی فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی شروع کی تھی جس کے بعد تقریباً 7 ماہ سے طویل تعطل جاری ہے۔
ٹری ینگسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں بڑے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے اور وہ اس فیصلے پر غور کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔