ٹرمپ نے روسی تیل کی درآمد پر امریکی قانون کا جائزہ لینے کا اشارہ دیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
ٹرمپ نے روسی تیل کی درآمد پر امریکی قانون کا جائزہ لینے کا اشارہ دیا
ٹرمپ نے روسی تیل کی درآمد پر امریکی قانون کا جائزہ لینے کا اشارہ دیا

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے والے امریکی قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قانون کا جائزہ لیں گے۔ تاہم انہوں نے روسی ڈیزل کی درآمد سے متعلق اپنی انتظامیہ کی اجازت پر بڑھتے تنازع کے درمیان پالیسی میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔ ایک صحافی کی جانب سے یہ بتائے جانے پر کہ یہ پابندی کانگریس نے منظور کی تھی اور سابق صدر جو بائیڈن نے 2022 میں اس پر دستخط کیے تھے، ٹرمپ نے کہا، ’’یہ شاید ایک بہت برا قانون ہے۔ میں اس کا جائزہ لوں گا، ضرور۔‘‘

اوول آفس میں صحافی سے بات چیت کے دوران امریکی صدر سے ایک ایسے بحری جہاز کے بارے میں سوال کیا گیا جو روسی ڈیزل لے کر سمندر کے راستے امریکہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ بھی تھا کہ اس جہاز کے کارگو کو اتارنے سے متعلق قانونی پابندیاں کیا ہیں۔ ابتدا میں ٹرمپ نے سوال کیا کہ کیا یہ پابندی جونز ایکٹ کے دائرے میں آتی ہے، جس پر صحافی نے وضاحت کی کہ معاملہ 2022 میں منظور کیے گئے قانون سے متعلق ہے۔ ٹرمپ کے جواب میں نہ تو کسی وقت کی حد بتائی گئی، نہ قانون میں ترمیم کی کوئی تجویز پیش کی گئی اور نہ ہی یہ وضاحت کی گئی کہ روسی ڈیزل کی درآمد کی انتظامیہ کی اجازت کو قانونی درآمدی پابندی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی اعلان نہیں کیا کہ روسی تیل کی درآمد پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ امریکی محکمہ خزانہ تقریباً 4 ہفتے قبل ایک الگ اجازت نامہ جاری کر چکا ہے۔ 9 اکتوبر کو دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں پر کنٹرول (او ایف اے سی) نے جنرل لائسنس 135 جاری کیا تھا، جس کے تحت روس سے متعلق پابندیوں کے 2 ضابطوں کے تحت بصورت دیگر ممنوع مالی لین دین کی اجازت دی گئی تھی، بشرطیکہ ان کا تعلق روسی نژاد ڈیزل کی فروخت، ترسیل، جہاز سے اتارنے یا درآمد سے ہو۔ اس دستاویز میں واضح طور پر امریکہ میں روسی ڈیزل کی درآمد کو شامل کیا گیا ہے اور یہ چھوٹ 7 اپریل 2027 کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 12:01 بجے تک نافذ رہے گی۔

اس لائسنس میں روس کے مرکزی بینک، نیشنل ویلتھ فنڈ یا وزارت خزانہ کے امریکی مالیاتی اداروں میں موجود کھاتوں سے رقوم نکالنے کو بھی مخصوص شرائط کے تحت مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم یہ اجازت خاص طور پر ڈیزل تک محدود ہے اور اس کا مطلب روسی پٹرولیم کی تمام مصنوعات کی تجارت دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔ دوسری جانب ’اینڈنگ امپورٹیشن آف رشین آئل ایکٹ‘، جس کی 8 اپریل 2022 کو باضابطہ منظوری دی گئی تھی، امریکی ٹیرف شیڈول کے باب 27 میں درج روسی مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر الگ سے پابندی عائد کرتا ہے۔ اس قانون میں پابندی ختم کرنے کے لیے ایک سخت طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے تحت صدر کو یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ یوکرین نے روس کی فوجی واپسی اور جنگ بندی سے متعلق کسی معاہدے کو قبول کر لیا ہے، نیٹو کے رکن ممالک کے خلاف روس کی جانب سے فوری فوجی خطرہ ختم ہو گیا ہے اور یوکرین کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں سے پہلے مشاورت اور صدر کی تصدیق کے بعد 90 روزہ جائزے کی مدت بھی ضروری ہے۔ تاہم اگر کانگریس اس پابندی کے خاتمے کے خلاف قرارداد منظور کر دے تو یہ عمل مختلف ہو سکتا ہے۔ مذکورہ محکمہ خزانہ کا لائسنس اپنے طور پر اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ روسی تیل کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کے لیے قانون میں مقررہ تمام شرائط پوری ہو گئی ہیں۔

نیوجرسی کی گورنر مکی شیریل نے 2 نومبر کو بندرگاہوں اور ٹرمینل آپریٹرز کو خط لکھ کر اس اجازت کی باضابطہ مخالفت کی تھی، یعنی ٹرمپ کے حالیہ بیان سے صرف 3 روز پہلے۔ انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے روسی ایندھن کی درآمد کی اجازت وفاقی قانون سے براہ راست متصادم ہے۔‘