واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر کئی امریکی ارکانِ کانگریس اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے، جس کے تحت انہوں نے روسی ایندھن کی فروخت سے متعلق پابندیوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ یہ پابندیاں روس اور ایران کو سزا دینے سے متعلق لنڈسے او گراہم قانون پر دستخط کیے جانے کے تقریباً ایک ماہ بعد نافذ ہونے والی تھیں۔ ابھی کے لیے روک دیے گئے اس قانون کے تحت ان پانچ ملکوں سے امریکہ آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک محصولات عائد کیے جا سکتے تھے جو روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ ان میں ہندوستان اور چین بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس دوران ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ کئی امریکی قانون سازوں نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کے دفتر نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہیں پوتن سے رقم مل رہی ہے۔ دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا، ’’ٹھیک ہے، پوتن کی طرف سے کسی نہ کسی کو رقم ضرور مل رہی ہے۔ وہ کون ہے اور اسے کتنی رقم مل رہی ہے؟‘‘
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن ڈان بائر نے اس فیصلے کو پوتن کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور روس یوکرین جنگ کے دوران یوکرین کے ساتھ غداری قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’ٹرمپ نے ابھی لنڈسے گراہم کے روس کو سزا دینے سے متعلق قانون میں شامل تمام پابندیوں کو معاف کر دیا ہے، بالکل ویسا ہی جیسا کہ میں اور دیگر لوگ پہلے خبردار کر چکے تھے۔ پوتن کے سامنے ٹرمپ کا تازہ ترین جھکاؤ ایک بار پھر ہمارے یوکرینی اتحادیوں کے ساتھ غداری ہے اور اس قانون سازی کے واضح مقصد کی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد روس کو اس کی غیر قانونی جارحانہ جنگ کی سزا دینا تھا۔‘‘
ڈان بائر نے ٹرمپ پر قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے قانون میں اصلاح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس قانون کو اپنے مفاد کے مطابق استعمال کریں گے اور اس کے تحت ملنے والے اختیارات کا غلط استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق، اگرچہ ٹرمپ نے فی الحال محصولات عائد کرنے کے اختیارات کو استعمال نہیں کیا ہے، لیکن موجودہ قانون انہیں نئے تجارتی اختیارات کو امریکہ کے اتحادیوں اور تجارتی شراکت داروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔
بائر نے کہا، ’’کانگریس کو اس ناقص قانون میں اصلاح کرنی چاہیے تاکہ ٹرمپ کو پوتن کے سامنے جھکنے سے روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون واقعی یوکرین کی حمایت کرتا ہے۔‘‘ ریپبلکن رکنِ ایوانِ نمائندگان ڈان بیکن نے بھی ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’صدر جنگ ختم نہیں کر رہے، بلکہ اسے طول دے رہے ہیں۔‘‘ شطرنج کے سابق عالمی چیمپئن اور پوتن کے معروف ناقد گیری کاسپاروف نے بھی ٹرمپ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’ظاہر ہے، انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب ٹرمپ الاسکا روس کو واپس دے دیں گے تو سینیٹ میں طاقت کا توازن کس طرح بدلے گا؟‘‘
کاسپاروف نے مزید کہا، ’’روس پر دباؤ کم کرنے یا اسے پیسہ پہنچانے والا کوئی بھی اقدام مزید بے گناہ یوکرینیوں کی جان لے گا اور جنگ کو طول دے گا۔ یہ عالمی سلامتی اور معیشت، بشمول امریکی معیشت، کے لیے نقصان دہ ہے۔ امریکہ کو روس سے کسی چیز کی ضرورت نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ ٹرمپ کو ہے۔‘‘ ٹرمپ نے لنڈسے گراہم قانون کی دفعہ 115 کا حوالہ دیتے ہوئے پابندیوں سے استثنا دینے کا اختیار استعمال کیا۔ اس دفعہ کے تحت صدر کسی غیر ملکی شخص پر لاگو پابندیوں، کسی شخص سے متعلق بعض پابندیوں اور قانون کے تحت عائد کسی محصول سے استثنا دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے حکم نامے میں کہا، ’’میں نے کانگریس کو یہ تصدیق پیش کر دی ہے کہ اس طرح کا استثنا دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانون کی دفعہ 115 (بی) کے مطابق اس تصدیق کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے قانون کی دفعات 112 اور 113 کے تحت عائد ہونے والے محصولات سے بھی استثنا دے دیا۔ ان دفعات کے تحت ٹرمپ کو روس سے امریکہ آنے والی تمام اشیا پر زیادہ سے زیادہ 500 فیصد تک محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ اس کے علاوہ روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ سب سے بڑے خریدار ملکوں سے امریکہ درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک محصول عائد کیا جا سکتا تھا۔ یہ پیش رفت ٹرمپ کے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق، روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا، جس کے بعد نومبر کے دوران مزید پانچ لاکھ ٹن اور پھر اس کے فوراً بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ ہندوستان نے بھی مجوزہ محصولات کے خدشے کے درمیان امریکہ کے سامنے لنڈسے او گراہم کے ’’روس اور ایران کو سزا دینے کے قانون 2026‘‘ پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ بدھ کے روز وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ہندوستان نے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو نشانہ بنانے والے امریکی قانونی اقدامات پر براہِ راست اپنے اعتراضات واشنگٹن تک پہنچا دیے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’ہم نے روس اور ایران کو سزا دینے سے متعلق قانون سازی کے بارے میں اپنے تحفظات پہلے ہی امریکی فریق تک پہنچا دیے ہیں۔‘‘