واشنگٹن ڈی سی: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ناروے کی نوبیل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ہندوستانی نژاد جنوبی افریقی قانون داں ناوی پلّے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں تنازعات ختم کرانے میں اپنے کردار کے باعث وہ خود اس اعزاز کے مستحق تھے۔ ٹرمپ نے جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک طویل پوسٹ میں ناوی پلّے کی اہلیت پر سوال اٹھائے اور ان پر اسرائیل مخالف ہونے کا الزام لگایا۔
انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ وہ آٹھ جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور متعدد نوبیل امن انعامات کے مستحق ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’یہ وہ خاتون ہیں جنہیں عظیم ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر ترجیح دیتے ہوئے نوبیل امن انعام دیا گیا، حالانکہ امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں اور بہت سے دوسرے کام کیے۔ میں اس خاتون کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی دوسرا انہیں جانتا ہے!‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’جہاں تک مجھے معلوم ہے، ان کے بارے میں کسی نے کبھی نہیں سنا، سوائے اس حقیقت کے کہ وہ واضح طور پر اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے ان آٹھ تنازعات کی فہرست بھی پیش کی جنہیں ختم کرانے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ ان میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسووو اور سربیا، جمہوریہ کانگو اور روانڈا، پاکستان اور ہندوستان، اسرائیل اور ایران، مصر اور ایتھوپیا، آرمینیا اور آذربائیجان، نیز اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعات شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں۔ جن ممالک کی مدد میں نے کی، ان کے تمام صدور اور وزرائے اعظم کی جانب سے ناروے کی نوبیل کمیٹی کو خطوط بھیجے گئے ہیں۔ اب میں ایران اور روس و یوکرین کے درمیان تنازعات کو ختم کرانے یا ان میں کامیابی حاصل کرنے کے قریب ہوں۔‘‘
اپنی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’امن کے معاملے میں میرے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، ایسا ریکارڈ جس کی مثال تاریخ میں کسی نے قائم نہیں کی، میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ میں اس اعزاز کا مستحق ہوں! میں نے اسرائیل کے تمام یرغمالیوں کو واپس لانے میں مدد کی، جن میں آخری 28 یرغمالی بھی شامل تھے، خواہ وہ زندہ ہوں یا ہلاک ہو چکے ہوں۔ میں نے اس کام کے لیے حماس کے ساتھ مل کر کام کیا۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ ایسا ممکن ہو سکے گا!‘‘
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا اور شمالی کوریا، جنوبی کوریا، جاپان، چین اور تائیوان سے متعلق کشیدگی سمیت دوسرے علاقوں میں ممکنہ تنازعات کو ٹالنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ مجھے صرف ایک نہیں، بلکہ آٹھ نوبیل امن انعام ملنے چاہییں تھے۔‘‘ ان کا اشارہ ان تنازعات کی طرف تھا جنہیں ختم کرانے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ امریکی صدر نے اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جن تنازعات کو ختم کرانے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، ان میں عالمی ادارے نے کوئی مدد نہیں کی۔ ٹرمپ نے کہا، ’’جن جنگوں کو میں نے ختم کرایا، ان میں سے کسی کے معاملے میں بھی میں نے اقوام متحدہ سے بات نہیں کی، کیونکہ اس نے کوئی مدد نہیں کی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکہ کو، جس کی نمائندگی میں اس کے صدر کی حیثیت سے کرتا ہوں، نوبیل امن انعام ملنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ ناروے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چند انتہا پسند نظریات رکھنے والے، جمہوریت مخالف اور تہذیب کے دشمن افراد نے نوبیل امن انعام کی ساکھ کو ہمیشہ کے لیے نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر امریکی صدر کو نوبیل امن انعام دیے جانے کی حمایت کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا، ’’ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امن کے فروغ کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ دریں اثنا، امریکہ نے جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کیا۔ امریکی حکومت نے اس اقدام کے لیے امریکہ کی خودمختاری سے متعلق خدشات اور عالمی عدالتی ادارے سے لاحق خطرات کو وجہ بتایا۔ یہ اعلان اسی دن کیا گیا جب ناوی پلّے کو نوبیل امن انعام دیے جانے کا اعلان ہوا۔
ناروے کی نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ناوی پلّے نے زیادہ جامع عالمی قانونی نظام کے فروغ کے لیے غیر معمولی جرأت اور دیانت داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ناوی پلّے اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ، روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جج کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
انہوں نے حال ہی تک مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔ فی الحال وہ عالمی عدالتِ انصاف میں میانمار کے خلاف نسل کشی کے الزامات سے متعلق مقدمے میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہندوستان کا موقف: جنگ بندی میں کسی بیرونی ثالث کا کردار نہیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاملے پر نئی دہلی مسلسل ٹرمپ کے دعووں کی تردید کرتا رہا ہے اور کسی بھی بیرونی ثالثی کو قبول نہ کرنے کے اپنے موقف پر قائم ہے۔