نیویارک: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق، یہ جنگ یا تو فوجی کارروائی جاری رہنے کے نتیجے میں ختم ہوگی یا پھر ایران امریکہ کی شرائط پر معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ اس دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روس امریکہ کو لاکھوں بیرل تیل فراہم کر رہا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔ نیویارک کے شہر سیراکیوز میں واقع آن سینٹر میں انتخابی جلسے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے جنگ پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’آج ہی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ روس ہمیں حقیقتاً لاکھوں بیرل تیل فراہم کر رہا ہے اور تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آ رہی ہیں۔ جنگ پر ہمارا بہت حد تک کنٹرول ہے، آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں ہے، ہماری بحریہ غیر معمولی ہے اور ہماری فوج بھی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تباہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ ملک کی قیادت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، فضائیہ ختم ہو چکی ہے، طیارہ شکن نظام ختم ہو چکا ہے اور ریڈار بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کے رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔ ہم ان کی قیادت کی دو سطحوں کو ختم کر چکے ہیں اور اب ان کی جگہ ایک بالکل مختلف گروہ موجود ہے۔‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی کے باعث واشنگٹن کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ اب کس کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہمارے مسائل میں سے ایک ہے۔ اب ہمیں ٹھیک سے معلوم نہیں کہ ہمیں کس سے بات کرنی چاہیے، لیکن کوئی بات نہیں۔‘‘
اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ کہا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا، ’’یہ جنگ کسی نہ کسی طرح بہت جلد ختم ہو جائے گی۔‘‘ جب صحافی نے ان سے پوچھا کہ ان کا اس بیان سے کیا مطلب ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ جنگ یا تو فوجی لڑائی کے ذریعے ختم ہوگی یا ایران امریکی شرائط پر معاہدے پر دستخط کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’جنگ یا تو لڑائی کے ذریعے ختم ہوگی یا پھر وہ ہماری مطلوبہ شرائط پر دستخط کریں گے۔ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
‘‘ ٹرمپ نے دلیل دی کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایسا ہونے سے روک دیا ہے اور اس معاملے میں پہلے کی امریکی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم نے انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہوتی تو آپ ایسی ہلاکتوں، افراتفری اور تباہی کا امکان دیکھتے جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ میں نے اسے روک دیا، اور دوسرے صدور کو بھی میرے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے ہی اسے روک دینا چاہیے تھا۔‘‘
ٹرمپ نے امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کی حکومت کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اسے اربوں ڈالر دیے تھے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اوباما نے انہیں پیسے دے کر راضی کرنے کی کوشش شروع کی، لیکن ایران نے اسے قبول نہیں کیا۔ وہ ایران کو روکنے کے لیے اسے ادائیگیاں کر رہے تھے اور انہوں نے اسے اربوں ڈالر دیے۔‘‘ اوباما انتظامیہ کے دور میں ایران کے ساتھ کئی دہائیوں پرانے تنازعے کے تصفیے سے منسلک 1.7 ارب امریکی ڈالر کی نقد ادائیگی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے اس رقم کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا، ’’آپ کو یاد ہوگا کہ انہیں روکنے کے لیے 1.7 ارب ڈالر نقد دیے گئے تھے، لیکن انہوں نے اس رقم کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔‘‘ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کو بار بار نشانہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے کی گئی سابقہ بمباری اور اس کے بعد ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ایک سال پہلے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ان پر بمباری کی تھی اور اس کے بعد سے مسلسل بمباری کرتے رہے ہیں۔ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’ہم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ یہ جنگ کسی نہ کسی طرح بہت جلد ختم ہو جائے گی۔‘
‘ روس سے تیل کی فراہمی کے معاہدے کو ٹرمپ نے اہم قرار دیا ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے جمعہ کے روز اس سے پہلے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے مجوزہ معاہدے کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا تھا۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو بہت بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، نیویارک کے شہر سیراکیوز میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے لیے روانہ ہونے سے پہلے، ٹرمپ نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ آپ نے روس کے ساتھ تیل کے معاہدے کے بارے میں سنا ہوگا۔
یہ ایک بہت بڑا معاہدہ ہے۔ ہمارے ملک میں تیل کی بہت بڑی مقدار آنے والی ہے۔ میں صدر پوتن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں بڑی مقدار میں تیل آئے گا اور یہ ڈیزل ہے، جس کی ہمیں ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ روس سے تیل کی مجوزہ فراہمی اور آبنائے ہرمز پر امریکہ کے مبینہ کنٹرول کے باعث امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں کم ہوں گی اور عالمی منڈی پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’آبنائے ہرمز پر ہمارے مکمل کنٹرول اور روس سے توانائی کی فراہمی کے اس اہم اعلان کے نتیجے میں امریکہ اور پوری دنیا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ رفتار سے اور تیزی کے ساتھ نیچے آئیں گی۔