ٹرمپ نے ایلون مسک سے یوکرین کو اسٹار شیلڈ نیٹ ورک تک رسائی بحال کرنے کو کہا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
ٹرمپ نے ایلون مسک سے یوکرین کو اسٹار شیلڈ نیٹ ورک تک رسائی بحال کرنے کو کہا
ٹرمپ نے ایلون مسک سے یوکرین کو اسٹار شیلڈ نیٹ ورک تک رسائی بحال کرنے کو کہا

 



واشنگٹن:۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کو فون کرکے یوکرین کی اسٹار شیلڈ سیٹلائٹ مواصلاتی نظام تک مکمل رسائی بحال کرنے کے لیے کہا تھا۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ فون اس وقت کیا گیا جب یوکرین کے حکام نے اطلاع دی کہ انہیں فوجی ڈرون چلانے میں نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس سے قبل 21 اکتوبر کو وال اسٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ایلون مسک نے یوکرین کے لیے ضروری فوجی اسٹارلنک نیٹ ورک کی رفتار جان بوجھ کر کم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف میں تشویش پھیل گئی تھی اور ٹرمپ انتظامیہ بھی حیرت میں پڑ گئی تھی۔ تاہم، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس بات کی تردید کی کہ امریکہ نے یوکرین کے زیر استعمال فوجی نوعیت کے اسٹار شیلڈ سیٹلائٹ نیٹ ورک میں کسی قسم کی کمی یا پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے میدان جنگ میں اس سروس کی دستیابی کم کیے جانے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے سیٹلائٹ سروس میں تبدیلی کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی۔

ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کوئی سروس واپس نہیں لی ہے۔ ہمارے نقطۂ نظر سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ ہم نے اس سلسلے میں کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ ہم ظاہر ہے کہ یوکرینیوں کی کامیابی کے خواہش مند ہیں۔‘‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ مواصلاتی نظام کے استعمال یا اس کی کارکردگی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا انحصار سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی شرائط پر ہوگا۔

ہیگستھ نے کہا کہ سروس کے استعمال کی کچھ شرائط ہیں، جن کی پابندی ضروری ہے، اور اسٹارلنک کو ان شرائط کے تحت فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی یوکرین میں اسٹارلنک رابطے میں مبینہ خلل کے معاملے میں واشنگٹن کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسٹارلنک ایک تجارتی سروس ہے، جسے وائٹ ہاؤس نہیں چلاتا۔

اسٹار شیلڈ میں مبینہ رکاوٹوں سے متعلق رپورٹس پر بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ یوکرین کو فی الحال اس دفاعی نظام تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اسٹار شیلڈ امریکی حکومت کے کنٹرول میں ہے، جب کہ اسٹارلنک ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی جانب سے فراہم کی جانے والی تجارتی سیٹلائٹ سروس ہے۔ روبیو نے کہا، ’’اسٹار شیلڈ دفاعی اور فوجی نوعیت کی سروس ہے، جسے امریکی فوج استعمال کرتی ہے۔ یہ یوکرین کے لیے دستیاب نہیں ہے اور اس بات پر بات چیت جاری ہے کہ اسے کس طرح استعمال کیا جائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

امریکہ میں کسی نے بھی اسٹارلنک کی رفتار کم کرنے کا حکم نہیں دیا۔ میری معلومات کے مطابق اس کی رفتار بحال کردی گئی ہے۔ یوکرین اسٹارلنک استعمال کر رہا تھا۔ اسٹار شیلڈ کا معاہدہ امریکی فوج کے ساتھ ہے اور اس کا یوکرین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین روس کے اندر دور تک حملے کرنے کے لیے اسٹار شیلڈ تک رسائی چاہتا ہے، لیکن فی الحال اسے یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔ روبیو نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یوکرین اس معاملے میں کیا مؤقف اختیار کر رہا ہے، لیکن اس کا وائٹ ہاؤس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کے مطابق، یہ رپورٹ کہ وائٹ ہاؤس نے کچھ ڈرونز کے استعمال کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ کی رفتار کم کرنے کا حکم دیا تھا، قطعی طور پر غلط ہے۔ سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات پر پابندیوں سے یوکرین کی فوجی کارروائیاں متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی اسٹارلنک رابطے میں رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔ دوسری جانب، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور یوکرین کی صورت حال، جسے انہوں نے مشکل اور پیچیدہ قرار دیا، اس کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔

روسی صحافی پاویل زاروبن سے گفتگو کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ حال ہی میں امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد روس اور امریکہ نے سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پوتن نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ ہم کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے، صورت حال مختلف ہوگی۔ بہرحال، ہم اپنے مقاصد حاصل کریں گے اور خصوصی فوجی کارروائی کے تمام اہداف پورے کیے جائیں گے۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کے نمائندے کے ساتھ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ ان مذاکرات کا مقصد کسی مختصر مدت کے لیے جنگ روکنے کے بجائے، حتمی امن معاہدہ طے پانے کے بعد یوکرین اور روس کی سلامتی کو یقینی بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کرنا ہوگا۔ پوتن کے مطابق، روس اس مقصد کے حصول کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔