ٹرمپ کا گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کرنے کا اعلان

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
ٹرمپ کا گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کرنے کا اعلان
ٹرمپ کا گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کرنے کا اعلان

 



واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش کا کام جلد شروع ہونے والا ہے۔ یہ اعلان واشنگٹن، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان دفاعی تعاون اور آرکٹک خطے کی سلامتی مضبوط کرنے کے معاہدے کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ اور یورپ کے لیے گرین لینڈ کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں گرین لینڈ میں توانائی کے وسائل اور معدنیات کے وسیع ذخائر کا ذکر کیا۔

انہوں نے اس جزیرے کی جغرافیائی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ممکنہ سلامتی خطرات سے امریکہ اور یورپ کے دفاع کے لیے یہ علاقہ انتہائی اہم ہے۔ ٹرمپ نے لکھا، ’’ہمارے نئے اور خوبصورت گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع ہونے والی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں آسانی سے نکالے جا سکنے والے تیل کی مقدار دنیا کے تقریباً کسی بھی دوسرے خطے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کے دفاع اور حملے کی صلاحیت کے لحاظ سے اس کی اہمیت بے مثال ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’مستقبل میں امریکہ پر ہونے والا کوئی بھی حملہ گرین لینڈ کے راستے سے آنا ہوگا، جہاں ہمارا دفاعی نظام ڈرون، میزائلوں اور کسی بھی ایسے ہتھیار کو مار گرائے گا جس کا ابھی تصور بھی نہیں کیا گیا ہے۔ دنیا میں کسی اور جگہ کے مقابلے میں یہ ہمیں زیادہ وقت، بہتر مقام اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔‘‘ ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آرکٹک خطے میں گرین لینڈ کی تزویراتی حیثیت پر بین الاقوامی توجہ بڑھ رہی ہے۔ اس علاقے کی سلامتی اور امریکہ کے لیے اس کی اہمیت کے معاملے پر کئی ماہ سے سفارتی کشیدگی بھی جاری رہی ہے۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم ینس فریڈرک نیلسن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد دفاعی تعاون اور آرکٹک خطے کی سلامتی کو مضبوط بنانا تھا۔ اس معاہدے کو گرین لینڈ کی تزویراتی اہمیت سے متعلق کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا گیا تھا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط سے پہلے ٹرمپ نے اس شراکت داری کے بارے میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ہمارے درمیان بہترین اور محفوظ تعلقات قائم ہوں گے اور ہم اس کے منتظر ہیں۔ اس معاہدے کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔‘‘

اس معاہدے سے پہلے ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ’انفینیٹ لائف‘ (لامحدود مدت) معاہدے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس انتظام سے امریکہ کے سلامتی سے متعلق خدشات دور ہو جائیں گے اور جزیرے کے سلامتی کے معاملات پر امریکہ کو مستقل اختیار حاصل ہوگا۔ ستمبر میں ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس معاہدے نے گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کے تمام خدشات کو مکمل طور پر دور کر دیا ہے اور اس پر واشنگٹن کو کوئی خرچ نہیں اٹھانا پڑے گا۔

ٹرمپ نے لکھا تھا، ’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ نے مملکت ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت گرین لینڈ میں سلامتی اور دیگر تمام ضروریات کے معاملات پر امریکہ کو مستقل اختیار حاصل ہوگا۔ اس سے امریکہ کے تمام خدشات مکمل طور پر دور ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس انتظام کے ذریعے امریکہ کو گرین لینڈ اور اپنے سلامتی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مکمل آزادی حاصل رہے گی۔

ٹرمپ نے کہا تھا، ’’میری ہدایت پر ہم نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے نمائندوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا کہ امریکہ کو گرین لینڈ اور امریکہ کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مکمل صلاحیت ہمیشہ حاصل رہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا تھا، ’’اس کے علاوہ، اب امریکہ کے کسی بھی مخالف ملک کو ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے، فوجی موجودگی رکھنے یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘

امریکی صدر نے اس معاہدے کو غیر معینہ مدت تک نافذ رہنے والا قرار دیا تھا اور جزیرے میں امریکی فوجی موجودگی میں بڑے پیمانے پر اضافے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم، ڈنمارک نے مجوزہ معاہدے کی جو وضاحت پیش کی ہے، اس میں آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے خطے میں سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک کا حصہ ہے۔