ڈیموکریٹس کے قبضے کے بعد ٹرمپ کا ویٹو کا سہارا لینے کا اعلان

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
ڈیموکریٹس کے قبضے کے بعد ٹرمپ کا ویٹو کا سہارا لینے کا اعلان
ڈیموکریٹس کے قبضے کے بعد ٹرمپ کا ویٹو کا سہارا لینے کا اعلان

 



واشنگٹن: امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ویٹو کے اختیار کو اپنی حکومت کا اہم ہتھیار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کانگریس کی جانب سے منظور کیے جانے والے غیر معقول بلوں کو وہ ویٹو کرسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سرخ رنگ کی میگا ٹوپی کی ایک تصویر پوسٹ کی، جس پر انگریزی لفظ ’ویٹو‘ درج تھا۔ اس کے بعد فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار صدر کے پاس موجود ہے۔

مخالف سیاسی جماعت کے کنٹرول والی کانگریس کے ساتھ حکومت چلانے کے سوال پر ٹرمپ نے کہا، ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ماضی میں بھی ایسا کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ صدر کے پاس ویٹو کا اختیار ہوتا ہے، جو ان کے سب سے طاقتور اختیارات میں سے ایک ہے۔ وہ لوگ ایسے بل بھیجیں گے جو بالکل غیر معقول ہوں گے اور میں انہیں ویٹو کردوں گا۔‘‘ اس سے قبل امریکی نیوز نیٹ ورکس نے بتایا تھا کہ ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کی تاریخ کی کم ترین مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی انتخابی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں ٹرمپ کی صدارت کے آخری 2 برسوں کے دوران صدر اور ان کی انتظامیہ کے اقدامات پر روک لگانے اور کڑی نگرانی کرنے کے وسیع اختیارات مل گئے ہیں۔

انتخابی شکست تسلیم کرنے کے باوجود ٹرمپ نے اپنے سخت سیاسی موقف میں نرمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا اور کہا کہ وہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے خلاف سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں اب ایک سیاسی تجزیہ کار بننے جارہا ہوں اور ان وجوہات پر بات کروں گا کہ کن امیدواروں نے کامیابی حاصل کی اور کن کو شکست ہوئی، اس کے اچھے اور برے دونوں پہلوؤں پر بات کروں گا۔ صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ۔‘‘ تاہم نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو قبول کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں ان نتائج کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ ہم ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کریں گے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ ممکن ہے کہ ہم کوئی راستہ نکال لیں۔‘‘ اس سے پہلے جب وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بڑے نقصان اور ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل ہونے کے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے تو ٹرمپ نے خود کو شکست کی ذمہ داری سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کے امکانات کے درمیان کہا تھا کہ وہ خود انتخابی میدان میں نہیں تھے، ورنہ ریپبلکن پارٹی زبردست کامیابی حاصل کرتی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’میں انتخابی میدان میں نہیں تھا اور اگر میں ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے! اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔ صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ۔‘‘ واضح رہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس طرح ووٹ دیں جیسے صدر خود بھی انتخابی میدان میں موجود ہوں۔ فاکس نیوز کے مطابق ووٹروں کے 4 اہم طبقوں، نوجوانوں، آزاد خیال ووٹروں، دیہی علاقوں کے باشندوں اور ہسپانوی نژاد امریکیوں نے بڑی تعداد میں ریپبلکن پارٹی سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ ان ووٹروں کی ناراضگی کی اہم وجوہات میں ایران جنگ اور ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی شامل ہیں۔

اس کے نتیجے میں ڈیموکریٹس نے ان ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہیں۔ جنوبی کیرولائنا اور ٹیکساس میں سینیٹ کی نشستیں جیتنا خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ٹیکساس میں 1994 کے بعد کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے ریاست گیر انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ کنساس میں بھی ڈیموکریٹس نے تقریباً 100 سال سے جاری ریپبلکن بالادستی ختم کرتے ہوئے سینیٹ کی نشست جیت لی۔ سی این این کے مطابق ووٹروں کے فیصلے پر مہنگائی، ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی، ایران جنگ اور صدر کے طرزِ عمل سے متعلق خدشات کے علاوہ ذاتی مفادات کے لیے عہدے کے استعمال کے تاثر نے بھی اثر ڈالا۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہوسکتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے باعث ڈیموکریٹس مختلف کمیٹیوں کے ذریعے تحقیقات، سماعتوں اور سمن جاری کرکے صدر اور ان کی انتظامیہ کے اقدامات کی کڑی جانچ کرسکیں گے۔ دوسری جانب سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل ہونے سے ڈیموکریٹس کو صدر کے عدالتی نامزد کردہ امیدواروں اور کابینہ میں تقرریوں کو روکنے، تحقیقات شروع کرنے اور اہم حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔