اسٹاک ہوم: رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے 2026 کا نوبیل انعام برائے جسمانیات و طب مشترکہ طور پر کارل ڈیسروتھ، پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ تینوں سائنس دانوں کو روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹو جینیٹکس کے حوالے سے ان کی اہم دریافتوں پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبیل اسمبلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس انعام کے ذریعے ان دریافتوں کو تسلیم کیا گیا ہے جنہوں نے آپٹو جینیٹکس کی بنیاد رکھی۔
یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے زندہ دماغ میں اعصابی خلیے یادداشت، جذبات اور رویوں کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں، اس کا مشاہدہ ممکن ہوتا ہے۔ ڈیسروتھ امریکہ کے ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، جبکہ ہیگیمان جرمنی کی ہمبولٹ یونیورسٹی برلن اور ناگل یونیورسٹی آف ورزبرگ سے وابستہ ہیں۔ بیان کے مطابق اس تحقیق کا آغاز ہیگیمان کی اس کوشش سے ہوا کہ یہ سمجھا جائے کہ ایک خلیے والی کائی ’کلامائی ڈوموناس‘ روشنی کے منبع کی طرف کیسے تیرتی ہے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہیگیمان اور ناگل نے ’چینل روڈوپسِن‘ دریافت کیا۔
یہ کائی میں پایا جانے والا ایک ایسا پروٹین ہے جس کی منفرد خصوصیات ہیں اور جو خلیے کی سطح پر موجود ہوتا ہے۔ جب یہ پروٹین نیلی روشنی کے سامنے آتا ہے تو ایک راستہ کھول دیتا ہے، جس کے ذریعے برقی چارج رکھنے والے آئن خلیے میں داخل ہوسکتے ہیں اور برقی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ اس پروٹین کو دوسرے خلیوں میں منتقل کرنے سے ان خلیوں کو بھی روشنی کے لیے حساس بنایا جاسکتا ہے۔ بعد میں ڈیسروتھ نے چینل روڈوپسِن بنانے والے جین کو چوہوں کے اعصابی خلیوں میں داخل کیا۔ نیلی روشنی ڈالنے سے وہ ان خلیوں میں اعصابی سگنل پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے 2005 میں اپنی اہم دریافت شائع کی اور دو سال بعد یہ بھی ثابت کیا کہ روشنی سے قابو پانے والا یہ نظام زندہ چوہوں کے دماغ میں بھی کام کرسکتا ہے۔ نوبیل اسمبلی کے مطابق اب آپٹو جینیٹکس کے نام سے معروف یہ طریقہ پوری دنیا میں تیزی سے اہمیت حاصل کرچکا ہے۔ اس کی مدد سے محققین مخصوص یادداشتوں، جذبات اور رویوں سے وابستہ اعصابی سرکٹس کی شناخت کر رہے ہیں، جو اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کو سمجھنے میں اہم ہیں۔ نوبیل کمیٹی برائے جسمانیات و طب کے چیئرمین پیر سویننگسن نے کہا، ’’آپٹو جینیٹکس دماغ کی نقشہ سازی کے ایسے مواقع فراہم کرتا ہے جن کا ہم کبھی صرف خواب دیکھا کرتے تھے۔‘
‘ محققین بصارت سے محروم افراد کی بینائی بحال کرنے کی کوششوں میں بھی آپٹو جینیٹکس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس نوبیل انعام کے تحت مجموعی طور پر 1 کروڑ 20 لاکھ سویڈش کرونا کی رقم دی جائے گی، جو تینوں انعام یافتگان میں برابر تقسیم ہوگی۔ ڈیسروتھ 1971، ہیگیمان 1954 اور ناگل 1953 میں پیدا ہوئے۔ انعام کا باعث بننے والی اہم دریافتیں مارٹنسرائڈ کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار بایوکیمسٹری اور فرینکفرٹ کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار بایوفزکس میں کی گئی تھیں۔