ویلا:، بحرالکاہل میں واقع وانواتو جزائر کے قریب ہفتے کے روز کئی زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ شدت 7.2 بتائی گئی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق، اس خطے میں 7.2، 6.9 اور 6.3 شدت کے زلزلے آئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹوں میں بتایا کہ 7.2 شدت کا زلزلہ وانواتو کے علاقے سولہ سے تقریباً 200 کلومیٹر مغرب میں آیا۔ اس کے علاوہ پورٹ اولری سے تقریباً 197 کلومیٹر مغرب-شمال مغرب میں 6.9 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ ایک اور زلزلہ پورٹ اولری سے تقریباً 170 کلومیٹر شمال مغرب میں آیا، جس کی شدت 6.3 بتائی گئی۔
ہندوستان کے قومی مرکز برائے زلزلہ پیما (این سی ایس) نے بھی ہفتے کی صبح وانواتو جزائر کے قریب 6.9 شدت کے زلزلے کی اطلاع دی۔ مرکز کے مطابق، یہ زلزلہ ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 8 بج کر ایک منٹ پر آیا اور اس کی گہرائی 20 کلومیٹر تھی۔ این سی ایس نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ 24 اکتوبر 2026 کو صبح 8 بج کر ایک منٹ 30 سیکنڈ پر آنے والے زلزلے کا مرکز 14.098 درجے جنوبی عرض البلد اور 165.493 درجے مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔ دونوں اداروں کی جانب سے زلزلوں کی شدت اور مقام کے بارے میں ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن میں کچھ فرق پایا گیا ہے۔
زلزلوں کی درست شدت، گہرائی اور مقام کا تعین کرنے کے لیے مزید جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یہ زلزلے ایسے وقت میں آئے ہیں جب اس سے چند روز قبل، 20 اکتوبر کو بحیرۂ مرجان میں بھی 6.4 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ہندوستان کے قومی مرکز برائے زلزلہ پیما کے مطابق، یہ زلزلہ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 50 منٹ پر آیا تھا اور اس کی گہرائی 23 کلومیٹر تھی۔ زلزلے اس وقت آتے ہیں جب زمین کی بالائی پرت میں موجود چٹانوں کے درمیان دراڑوں کے کناروں پر جمع ہونے والا دباؤ اچانک خارج ہوتا ہے۔
اس عمل سے پیدا ہونے والی لہریں زمین کے اندر اور سطح پر پھیلتی ہیں۔ زلزلے سے ہونے والے نقصان کا انحصار اس کی شدت، گہرائی، آبادی والے علاقوں سے فاصلے اور عمارتوں کی مضبوطی سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ بحرالکاہل کے جنوب مغربی حصے میں واقع یہ خطہ زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی سرگرم ہے، کیونکہ یہاں بحرالکاہل کے گرد موجود آتش فشانی اور زلزلہ خیز پٹی، جسے ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، میں مختلف ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی اور ایک دوسرے سے ٹکراتی رہتی ہیں۔ زلزلہ پیما ادارے ان واقعات کی شدت، گہرائی اور مقام کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ آس پاس کی آبادیوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔