دنیا وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے اب بھی پوری طرح تیار نہیں: ڈبلیو ایچ او سربراہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
دنیا وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے اب بھی پوری طرح تیار نہیں: ڈبلیو ایچ او سربراہ
دنیا وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے اب بھی پوری طرح تیار نہیں: ڈبلیو ایچ او سربراہ

 



جنیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے پیر کو کہا کہ دنیا وبائی امراض کی روک تھام، ان کے لیے تیاری اور ان سے نمٹنے کے لیے اب بھی ’’ناکافی طور پر تیار‘‘ ہے۔ ان کا یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے سے قبل سامنے آیا ہے۔ ٹیڈروس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنما وبائی امراض کی روک تھام، ان کے لیے تیاری اور ان سے نمٹنے کے اپنے عزم کی تجدید کے لیے ملاقات کریں گے۔

سیاسی اعلامیہ واضح ہے: دنیا اب بھی وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے ناکافی طور پر تیار ہے۔‘‘ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ’’سیاسی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں‘‘ اور وبائی معاہدے کے تحت ’’پی تھوجن ایکسیس اینڈ بینیفٹ شیئرنگ‘‘ ضمیمے کو مکمل کریں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سالانہ اعلیٰ سطحی جنرل ڈبیٹ میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جنرل ڈبیٹ 22 سے 28 ستمبر تک منعقد ہوگی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ثابت ہو‘‘ رکھا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کے خلیل الرحمن اس اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور اعلیٰ سطحی نمائندے شرکت کریں گے۔ وہ بڑے بین الاقوامی مسائل پر اپنے ممالک کی ترجیحات اور موقف پیش کریں گے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بہتر دنیا کے لیے امید اور مسلسل کوششوں پر زور دیا تھا۔ وہ اقوام متحدہ کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل اسمبلی کے اپنے آخری اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔

گوتریس نے ایکس پر لکھا، ’’جب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے آخری جنرل اسمبلی اجلاس کی تیاری کر رہا ہوں تو میں ان عالمی چیلنجز کے بارے میں سوچ رہا ہوں جن کا لوگوں کو سامنا ہے۔ ان مشکل حالات میں ہمیں مایوس ہونے کے بجائے پرامید رہنے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہمیں سب کے لیے ایک بہتر دنیا کی جدوجہد ترک نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اب پہلے سے کہیں زیادہ اس کی ضرورت ہے۔‘‘ ہندوستان کی جانب سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 81ویں اجلاس میں عالمی تعاون کو دوبارہ مضبوط بنانے، پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانے اور امن، وقار اور مساوات کے لیے اجتماعی اقدامات کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران عالمی تنازعات، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسانی بحران اور دیگر اہم بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔ جنرل ڈبیٹ عالمی رہنماؤں کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پیش کرنے اور دنیا میں ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔