واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے پیر کے لیے سی این این کو ٹیلی ویژن پول کے نمائندہ نیٹ ورک کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر وائٹ ہاؤس میں پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جاری تنازع کو مزید بڑھانے والی ہے۔
سی این این کو پیر کے روز ٹی وی پول نیٹ ورک کی ذمہ داری دی گئی تھی اور توقع تھی کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ٹرمپ کے ساتھ نیویارک جائے گا۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے مواصلات کی جانب سے اتوار کی رات جاری کیے گئے ’’ڈیلی گائیڈنس اینڈ پریس شیڈول‘‘ میں پیر کے ٹی وی پول کے لیے کسی بھی اہم ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا نام نہیں دیا گیا۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ان میڈیا اداروں پر ’’جعلی خبریں‘‘ شائع کرنے کا الزام لگایا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہے کہ فوری طور پر جعلی خبریں پھیلانے والے سی این این، ایم ایس ناؤ، جس نے حال ہی میں کم ناظرین اور ساکھ کی وجہ سے اپنا نام ایم ایس این بی سی سے تبدیل کیا ہے، اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے باہر رکھا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے پولیٹیکو کو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکی حکومت سے 8 ملین ڈالر کی مبینہ سبسکرپشن حاصل کرنے کا بھی حوالہ دیا اور اسے ’’کرپشن‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ دیگر میڈیا اداروں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’میڈیا اداروں کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ امریکی صدر، ٹرمپ انتظامیہ یا امریکہ کی کوریج کے دوران مسلسل افسانے اور جھوٹ لکھیں یا نشر کریں۔ دیگر جعلی خبریں پھیلانے والے میڈیا اداروں کی باری بھی آئے گی۔‘‘ اس فیصلے کے اثرات ہفتے کو اس وقت واضح ہوئے جب تینوں متاثرہ اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور بعض صحافیوں کے پریس پاس بھی ضبط کر لیے گئے۔
سی این این کی رپورٹر بیٹسی کلین نے بتایا کہ سکیورٹی چیک پوائنٹ پر ان کا پریس پاس کام نہیں کر رہا تھا اور ایک سیکرٹ سروس اہلکار نے انہیں بتایا کہ ان کا بیج غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ کلین نے سی این این پر واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ معمول کے مطابق سکیورٹی کے تمام مراحل سے گزریں۔ انہوں نے اپنا سامان سکیورٹی مشین سے گزارا، بیج کارڈ ریڈر پر لگایا اور چار ہندسوں کا پن درج کیا، لیکن اس بار بیج قبول نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق سکیورٹی اہلکار نے ان سے بیج مانگا اور بتایا کہ اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ کلین نے وجہ دریافت کی تو انہیں وائٹ ہاؤس پریس آفس سے رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ بعد میں اہلکار نے ان کا فزیکل پریس بیج بھی اپنے پاس رکھ لیا۔
ایم ایس ناؤ کی نامہ نگار اکایلا گارڈنر نے بھی اسی طرح کے واقعے کی اطلاع دی۔ ان کے مطابق ایک اہلکار نے ان سے بیج حوالے کرنے کو کہا اور بتایا کہ اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ جب انہوں نے اندر داخل نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو اہلکار نے کہا کہ یہ معاملہ اس کے اختیار سے باہر ہے۔ گارڈنر کے مطابق ان کے فوٹوگرافر کو بھی داخل ہونے سے روک دیا گیا، تاہم ایم ایس ناؤ کے ایک پروڈیوسر کا بیج فعال تھا اور وہ اسے اسکین کرکے اندر داخل ہونے میں کامیاب رہا۔ وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن نے ان پابندیوں پر تنقید کی ہے۔
تنظیم کی صدر جیکی ہینرک نے کہا کہ صحافیوں کی رسائی ختم کرنے کا یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کے صحافیوں کی رسائی ختم کرنے کا آج کا اقدام پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے اثرات صرف ان اداروں تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر کسی میڈیا ادارے کو اس کی رپورٹنگ کی بنیاد پر باہر رکھنے کا معیار قائم کیا گیا تو مستقبل میں اسے کسی بھی میڈیا ادارے پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔‘‘ سی این این نے بھی کہا ہے کہ پابندیوں کے باوجود وہ امریکی حکومت کی کوریج جاری رکھے گا۔
نیٹ ورک نے اپنے بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس یا دیگر سرکاری عمارتوں تک جسمانی رسائی محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود امریکی حکومت کی رپورٹنگ جاری رہے گی۔ سی این این نے مزید کہا کہ امریکی آئین کے تحت اسے حکومتی مداخلت یا رکاوٹ کے بغیر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے کا حق حاصل ہے اور اس پابندی کو اس بنیادی حق پر ’’غیر قانونی حملہ‘‘ قرار دیا۔ تنازع اب وائٹ ہاؤس کے ٹیلی ویژن پول کے معاملے تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ٹی وی پول پانچ بڑے نیٹ ورکس پر مشتمل ایک باری باری چلنے والا انتظام ہے، جس کے تحت صدر کی سرگرمیوں، سفر اور ان تقریبات کی مشترکہ ویڈیو کوریج فراہم کی جاتی ہے جہاں پورے پریس کور کے لیے موجود رہنا ممکن نہیں ہوتا۔
پیر کے روز سی این این کی پول ڈیوٹی خاص طور پر اہم تھی کیونکہ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے شیڈول تبدیل کیے جانے سے قبل سی این این کو اس سفر کے لیے پول نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس تنازع نے قانونی کارروائی کا امکان بھی پیدا کر دیا ہے۔ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو ان پابندیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ سی این این نے واضح کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس تک جسمانی رسائی محدود ہونے کے باوجود اس کی رپورٹنگ جاری رہے گی۔
تازہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ اور ان میڈیا اداروں کے درمیان جاری تنازع میں ایک اور مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے سی این این کو پیر کی طے شدہ پول ڈیوٹی سے ہٹائے جانے کے بعد صدر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سفر کی مشترکہ ٹیلی ویژن کوریج بھی متاثر ہوئی ہے۔