خلیجی ممالک کی مشترکہ سلامتی کے لیے متحدہ عرب امارات کا مطالبہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
خلیجی ممالک کی مشترکہ سلامتی کے لیے متحدہ عرب امارات کا مطالبہ
خلیجی ممالک کی مشترکہ سلامتی کے لیے متحدہ عرب امارات کا مطالبہ

 



نئی دہلی: متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے پیر کو خلیجی ممالک کی مشترکہ کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے، خصوصاً سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملے تیز ہو گئے ہیں۔ حالیہ حملے میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک ہندوستانی شہری سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے۔

قرقاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کا مطلب متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ممالک کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عرب خلیجی ممالک کے خلاف جارحیت شروع ہونے کے بعد، حملہ آوروں نے غلط اندازہ لگایا تھا کہ اس جنگ میں خلیجی ممالک سب سے کمزور کڑی ہیں، حالانکہ ہم اس جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم سب نشانے پر ہیں اور ہماری سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جا سکتی۔

برادر ملک سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے متحدہ عرب امارات اور تمام خلیجی ممالک کی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔‘‘ قرقاش نے مزید کہا، ’’خلیجی ممالک کے مشترکہ اقدامات کو دوبارہ فعال کرنے کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں، اور اجتماعی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ اس شعبے کو سنگین طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، جس سے دوسروں کو ہمارے خلاف حد سے آگے بڑھنے کی شہ ملی ہے۔ خلیجی سلامتی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں نہ کوتاہی کی گنجائش ہے اور نہ ہی تاخیر کی۔‘

‘ علاقائی سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانے کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے 11 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا تھا کہ 10 اکتوبر کے حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار سعودی شہری شامل تھے، جبکہ مختلف قومیتوں کے 309 افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 6 اور 7 اکتوبر کو ہونے والے حملوں کے بعد ہوا۔

سعودی شہری ہوابازی کے حکام کے مطابق، ان حملوں میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔ 10 اکتوبر کے حملے کے بعد نقصان کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حفاظتی جانچ مکمل کرنے کے لیے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں۔ دریں اثنا، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی عرب کے پاس حوثی باغیوں کے مزید حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائلوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے سے سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

اخبار کے مطابق، بڑھتے ہوئے حملوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے بعض علاقوں کو ممکنہ جنگی میدان میں تبدیل کر دیا ہے۔ ریاض یمن کے ان علاقوں سے 500 میل سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے جو حوثی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ اتوار کو حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں، کاروباری اداروں اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں پر پروازیں چلانے کے خلاف ایک بار پھر خبردار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ہوائی اڈے محفوظ نہیں ہیں۔

ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں سریع نے کہا، ’’ہم دنیا بھر کی تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور مسافروں کو دوبارہ خبردار کرتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں، کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہیں۔ البتہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود اس سے مستثنیٰ ہیں۔