جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس شروع، جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی تعاون پر توجہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
 جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس شروع، جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی تعاون پر توجہ
جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس شروع، جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی تعاون پر توجہ

 



نیویارک: دنیا بھر کی نظریں منگل کو نیویارک پر مرکوز ہیں، جہاں اقوام متحدہ کے 81ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور اعلیٰ نمائندے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس ہفتے جنگوں، موسمیاتی تبدیلی، ترقی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور کثیر ملکی نظام کے مستقبل سمیت کئی اہم عالمی امور پر توجہ رہے گی۔

جنرل اسمبلی کی عمومی بحث منگل کو مقامی وقت کے مطابق شروع ہوگی اور 26 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے بعد 28 ستمبر کو دوبارہ شروع ہوگی۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کے رہنما اس دوران جنرل اسمبلی کے معروف سبز سنگ مرمر کے پوڈیم سے اپنے ممالک کی ترجیحات اور عالمی امور پر موقف پیش کریں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اعلیٰ سطحی ہفتے میں تقریباً 130 ممالک کے سربراہان مملکت اور حکومت کی شرکت متوقع ہے۔

اس سال کا اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا میں جغرافیائی سیاسی اختلافات بڑھ رہے ہیں اور کثیر ملکی نظام پر بھی دباؤ ہے۔ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت بنگلہ دیش کے خلیل الرحمٰن کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کا موضوع ’’اعتماد بحال کرنا، تبدیلی کا انتظام کرنا: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے کام کرے‘‘ رکھا گیا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر ہندوستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں اور جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں نئی دہلی کی نمائندگی کریں گے۔ نیویارک میں ان کی سفارتی سرگرمیاں پہلے ہی شروع ہوچکی ہیں اور وہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر نمائندوں سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

ان ملاقاتوں میں علاقائی تنازعات، اقتصادی شراکت داری اور کثیر ملکی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی منگل کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس کے باعث اجلاس کے پہلے ہی دن واشنگٹن کی ترجیحات عالمی توجہ کا مرکز رہیں گی۔ جنرل اسمبلی میں ان کی شرکت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب وہ دنیا کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ متعدد دو طرفہ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں، جن میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر بات چیت شامل ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون بھی عمومی بحث میں اہم عالمی رہنماؤں میں شامل ہوں گے۔

میکرون نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کرچکے ہیں، جس میں یوکرین کے علاوہ توانائی کی عالمی منڈی اور خطے کی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ جنرل اسمبلی کی عمومی بحث دنیا کی توجہ کا سب سے نمایاں مرکز ہوتی ہے، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران زیادہ تر سفارتی سرگرمیاں اجلاس کے ہال سے باہر دو طرفہ اور کثیر ملکی ملاقاتوں میں ہوتی ہیں۔ ایک ہی مقام پر اتحادیوں، شراکت داروں اور مختلف معاملات پر اختلاف رکھنے والے ممالک کے نمائندوں کی موجودگی نیویارک کو کئی دنوں کے لیے عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بنا دیتی ہے۔

اس دوران جنگوں اور عالمی سلامتی کے ساتھ تجارت، توانائی، ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سمیت متعدد موضوعات پر بات چیت ہوگی۔ اقوام متحدہ نے اس ہفتے کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف، موسمیاتی کارروائی، آئندہ وباؤں سے نمٹنے کی تیاری، سمندر کی سطح میں اضافے، نسل پرستی اور جوہری تخفیف اسلحہ سمیت کئی اہم امور کو ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔ ترقی کے معاملے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی، کیونکہ دنیا 2030 تک پائیدار ترقی کے 17 اہداف حاصل کرنے کی آخری مدت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 18 ستمبر کو منعقد ہونے والے سالانہ ایس ڈی جی مومنٹ میں 2015 میں طے کیے گئے ان 17 اہداف پر پیش رفت تیز کرنے پر توجہ دی گئی تھی۔

ان اہداف میں غربت اور بھوک کے خاتمے سے لے کر تعلیم، صاف پانی اور توانائی تک مختلف شعبے شامل ہیں۔ 23 ستمبر کو موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ اس میں قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی تیز کرنے، موسمیاتی مالیات کو مضبوط بنانے اور ان برادریوں کی مدد پر بات ہوگی جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اثرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ 24 ستمبر کو سمندر کی سطح میں اضافے کے معاملے پر ایک الگ اعلیٰ سطحی اجلاس ہوگا۔

یہ مسئلہ خاص طور پر چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے اہم ہے۔ 25 ستمبر کو عالمی رہنما آئندہ وباؤں سے نمٹنے کی تیاری پر توجہ دیں گے۔ وباؤں کی روک تھام، تیاری اور مؤثر ردعمل سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور مستقبل میں پیدا ہونے والے صحت عامہ کے بحرانوں کے لیے زیادہ مساوی عالمی ردعمل تیار کرنے پر غور کیا جائے گا۔ 28 ستمبر کو نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور مساوات سے متعلق اجلاس ہوگا، جو ڈربن اعلامیہ اور پروگرام آف ایکشن کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔

اعلیٰ سطحی ہفتے کا اختتام 29 ستمبر کو جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے سے متعلق اجلاس کے ساتھ ہوگا۔ اقوام متحدہ جوہری تخفیف اسلحہ کو اپنی سب سے اہم ترجیحات میں شمار کرتا ہے۔ اس پورے ایجنڈے کے پس منظر میں ایک بڑا سوال یہ بھی موجود ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مسابقت اور اختلافات بڑھ رہے ہیں اور مختلف بحران ایک دوسرے سے جڑتے جارہے ہیں، ممالک کس حد تک باہمی تعاون کرسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس سال کے اجلاس کا بنیادی موضوع اعتماد کی بحالی اور تیزی سے آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کو بنایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جن کی دوسری اور آخری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہوگی، نے اقوام متحدہ کے منشور کے ابتدائی الفاظ ’’ہم عوام‘‘ کو بھی اس عالمی ادارے کے قیام کے بنیادی مقصد کی یاد دہانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس ہفتے دنیا کے مختلف رہنما جنرل اسمبلی کے پوڈیم سے اپنے اپنے خیالات اور ترجیحات پیش کریں گے۔ ان خطابات میں جنگ، معاشی غیر یقینی، موسمیاتی دباؤ اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں سے دوچار دنیا کے بارے میں مختلف تصورات سامنے آئیں گے۔ تاہم اجلاس کی اہمیت صرف ان خطابات تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ اصل توجہ اس بات پر بھی رہے گی کہ مختلف ممالک اپنے اختلافات کے باوجود سرحدوں سے آگے بڑھنے والے مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے کس حد تک عملی تعاون کر پاتے ہیں۔