تھائی لینڈ سے دو ایغور مسلمانوں کی چین حوالگی کا خطرہ، عالمی ایغور کانگریس کا خدشہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
تھائی لینڈ سے دو ایغور مسلمانوں کی چین حوالگی کا خطرہ، عالمی ایغور کانگریس کا خدشہ
تھائی لینڈ سے دو ایغور مسلمانوں کی چین حوالگی کا خطرہ، عالمی ایغور کانگریس کا خدشہ

 



میونخ، :عالمی ایغور کانگریس (ڈبلیو یو سی) نے تھائی لینڈ سے دو ایغور مسلمانوں کو چین بھیجے جانے کے خدشے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان دونوں افراد کو شاہی معافی ملنے کے بعد 21 اکتوبر کو عام حراستی مرکز سے نکال کر امیگریشن حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا تھا۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ چین واپس بھیجے جانے پر انہیں تشدد اور جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کا خطرہ ہے۔ عالمی ایغور کانگریس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، یہ دونوں افراد ان پانچ ایغور مسلمانوں میں شامل ہیں جو اب بھی تھائی لینڈ میں حراست میں ہیں۔ یہ تقریباً 300 ایغور مسلمانوں کے اس گروپ کا حصہ تھے جو چین میں ظلم و ستم سے بچ کر فرار ہوئے تھے، لیکن مارچ 2014 میں تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی سرحد کے قریب انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

تنظیم کے مطابق، 2015 میں تھائی حکام نے اس گروپ کے 100 ایغور مسلمانوں کو چین واپس بھیج دیا تھا۔ باقی افراد کو کئی برس تک امیگریشن حراستی مراکز میں رکھا گیا، جہاں عالمی ایغور کانگریس کے مطابق انہیں عملاً بیرونی دنیا سے رابطے کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں وکیلوں اور غیر سرکاری تنظیموں تک رسائی سے محروم رکھا گیا، مناسب طبی سہولتیں اور غذا فراہم نہیں کی گئیں اور جسمانی سرگرمیوں کے مواقع بھی محدود تھے۔ اس دوران گروپ کے پانچ افراد حراست میں ہی ہلاک ہو گئے۔ عالمی ایغور کانگریس نے مزید بتایا کہ 2025 میں سیاسی حلقوں اور عوام کی وسیع مخالفت کے باوجود مزید 40 ایغور مسلمانوں کو چین واپس بھیج دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق، ان افراد کے اہل خانہ اب تک ان سے رابطہ قائم نہیں کر سکے ہیں۔ ان کی حوالگی کے ایک سال بعد بھی نہ تو چینی حکام اور نہ ہی تھائی حکام نے ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت فراہم کیا ہے۔

تنظیم نے اس صورت حال کو جبری گمشدگی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ چین واپس بھیجے جانے کے بعد یہ ایغور افراد عملاً لاپتہ ہو گئے ہیں۔ باقی زیر حراست افراد کی حوالگی کے خطرے پر خبردار کرتے ہوئے عالمی ایغور کانگریس نے کہا کہ اگر تھائی لینڈ نے ان دونوں افراد کو ایسے ملک واپس بھیجا جہاں انہیں تشدد اور جبری گمشدگی کا سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، تو یہ اس کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ پریس ریلیز میں چین کی وسیع تر انسانی حقوق کی صورت حال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 2016 سے ایغور مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر قید، جبری مشقت، حراست کے دوران تشدد، جبری نس بندی اور خاندانوں سے علیحدگی جیسے مظالم کا سامنا ہے، جن سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

عالمی ایغور کانگریس کے صدر ترغونجان الواڈون نے کہا، ’’تھائی لینڈ کو ان ایغور پناہ گزینوں کو چین واپس نہیں بھیجنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ ایغور مسلمانوں کے خلاف جاری نسل کشی میں شریک بن سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور چین کے اندر اور اس کی سرحدوں سے باہر ایغور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو واضح طور پر مسترد کریں۔ عالمی ایغور کانگریس نے بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تھائی لینڈ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر)، تشدد کے خلاف کنونشن (سی اے ٹی) اور تمام افراد کو جبری گمشدگی سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی کنونشن (آئی سی پی پی ای ڈی) کا پابند ہے۔

تنظیم کے مطابق، ان بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ایسے افراد کو کسی ایسے ملک واپس بھیجنے کی ممانعت ہے جہاں انہیں تشدد، دیگر ممنوعہ بدسلوکی یا جبری گمشدگی کا خطرہ لاحق ہو۔ اس اصول کو بین الاقوامی قانون میں ’نان ریفولمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ عالمی ایغور کانگریس نے تھائی لینڈ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان دونوں افراد سمیت باقی پانچوں زیر حراست ایغور مسلمانوں کو چین واپس نہ بھیجے۔ تنظیم نے تیسرے ممالک کی حکومتوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ان پانچوں افراد کو اپنے یہاں آباد کرنے کے مواقع فراہم کریں، چاہے وہ عام حراست میں ہوں یا امیگریشن حراستی مرکز میں۔ اس کے علاوہ تنظیم نے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور تیسرے ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تھائی لینڈ پر بین الاقوامی دباؤ بڑھائیں، تاکہ کسی بھی ایغور زیر حراست شخص کو چین واپس نہ بھیجا جائے۔