نئی دہلی: ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے پیر کو خبردار کیا کہ چند کمپنیوں کے اقدامات سے ہنرمند افراد کو بیرون ملک روزگار دلانے کے پورے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے اخلاقیات، شفافیت اور جواب دہی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے بعض کمپنیوں کو مستقل مزدور سرٹیفکیشن پروگرام (پرم) سے معطل کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں گلوبل اسکلز موبیلٹی ایسوسی ایشن آف انڈیا (جی ایس ایم اے آئی) کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وکرم مصری نے بین الاقوامی بھرتیوں میں استحصال، دھوکہ دہی اور ملازمت کی ضروریات کے مطابق مہارت نہ ہونے جیسے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند افراد کی عالمی نقل و حرکت کا تعلق حقیقی انسانوں سے ہے، اس لیے ان کی امیدوں، روزگار اور معاش کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
مصری نے کہا، ’’اس پورے نظام کی ساکھ، جسے ہم سب یہاں مل کر قائم کرنا چاہتے ہیں، چند لوگوں کے اقدامات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اخلاقیات، شفافیت اور اپنی ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ ہونے کی آمادگی بہت اہم ہے۔‘‘ انہوں نے بیرون ملک ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ، درست معلومات کی کمی اور کارکنوں کی مہارتوں اور ملازمتوں کی ضروریات کے درمیان عدم مطابقت کے ممکنہ نتائج سے بھی خبردار کیا۔ خارجہ سکریٹری نے کہا، ’’آپ سب جس چیز کے ساتھ کام کر رہے ہیں، وہ کوئی بے جان سامان نہیں، بلکہ حقیقی انسان ہیں۔ اس لیے اس کام میں بھی کئی خطرات موجود ہیں۔ آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ زیادہ مانگ کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کا استحصال نہ کیا جائے، معلومات کی کمی دھوکہ دہی کا سبب نہ بنے اور مہارتوں اور ملازمتوں کے تقاضوں میں فرق ایسی مایوسی پیدا نہ کرے جس سے بچا جا سکتا تھا۔ بدقسمتی سے، آج کی دنیا میں ہم ان تینوں صورتوں کو دیکھ چکے ہیں۔‘
‘ مصری نے نئی قائم ہونے والی تنظیم پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ معیار قائم کرے اور اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی مسلسل کوشش کرے۔ ان کے مطابق، اگر اس نظام کو درست انداز میں چلایا جائے تو بیرون ملک روزگار کے مواقع ہندوستان کے ہنر کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے ہندوستان کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں گلوبل اسکلز موبیلٹی ایسوسی ایشن آف انڈیا کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے لیے بلند معیار مقرر کرے اور مسلسل ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ اگر ہم یہ کام درست انداز میں کر پائے تو ہنرمند افراد کی نقل و حرکت ہندوستان کے وسائل کو کم نہیں کرے گی، بلکہ ملک کو مزید مضبوط بنائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سب اس عمل میں تعمیری اور مؤثر کردار ادا کریں گے۔‘‘
مصری کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ کے محکمۂ محنت کی جانب سے بعض بڑی ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو مستقل مزدور سرٹیفکیشن پروگرام سے معطل کیے جانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی حکام نے اس فیصلے کی وجہ ان کمپنیوں کے خلاف وفاقی سطح پر جاری متعدد تحقیقات بتائی ہے۔ امریکہ کے وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ نے گزشتہ ہفتے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کوگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وِپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمنی سمیت کئی کمپنیوں کے نام لیے تھے۔ ان کے علاوہ امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں مائیکروسافٹ اور ایڈوب کا نام بھی شامل تھا۔
سونڈرلنگ نے کہا تھا کہ محکمۂ محنت ان کمپنیوں سے متعلق مستقل مزدور سرٹیفکیشن کی نئی درخواستیں قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی پہلے سے زیر التوا درخواستوں پر کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ان کمپنیوں سے متعلق مستقل مزدور سرٹیفکیشن کی کوئی نئی درخواست قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی زیر التوا درخواستوں پر کارروائی کریں گے۔‘‘ امریکی وزیر محنت نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کی درخواستیں دی تھیں اور انہیں ایچ-ون بی ویزا کی لاکھوں منظوریوں کے ساتھ مستقل مزدور سرٹیفکیشن بھی حاصل ہوئے تھے۔ اس معاملے پر ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی کہ پرم پروگرام اور ایچ-ون بی ویزا پروگرام الگ الگ ہیں۔ وزارت کے مطابق، پرم پروگرام سے معطلی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے سے جاری ایچ-ون بی ویزے خود بخود غیر مؤثر ہو جائیں گے یا ان ویزوں پر امریکہ میں رہنے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کی حیثیت متاثر ہو گی۔
تاہم، وزارت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس فیصلے سے متعلقہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے مستقل رہائشی اجازت نامے، یعنی گرین کارڈ، حاصل کرنے کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے ہندوستان اور امریکہ، دونوں کے لیے ہنرمند افراد کی عالمی نقل و حرکت کے باہمی فوائد کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے مطابق، ایسے افراد کی آمد و رفت سے جدت، تحقیق، پیداواری صلاحیت، مسابقت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
وزارت نے کہا، ’’اس عمل سے جہاں ہندوستانیوں کے لیے مواقع پیدا ہوتے ہیں، وہیں امریکی کمپنیوں کو بھی جدید ترین مہارت رکھنے والے افراد میسر آتے ہیں۔ اس سے جدت، تحقیق، پیداواری صلاحیت، مسابقت اور روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں، جبکہ امریکہ میں حصص رکھنے والوں کی دولت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ وزارت نے ہنرمند افراد کی عالمی نقل و حرکت کو دونوں ملکوں کے لیے باہمی فائدے کا ایک اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات ہندوستان اور امریکہ کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے میں مددگار نہیں ہیں۔