نئی دہلی: ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) 20 اکتوبر سے نافذ ہوجائے گا۔ ہندوستان میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر پیٹرک جان رٹا نے جمعہ کو کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے ’’نسل میں ایک بار ملنے والا موقع‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نافذ ہوتے ہی ہندوستان کی تمام برآمدات نیوزی لینڈ کی منڈی میں بغیر کسی درآمدی ڈیوٹی کے داخل ہوسکیں گی۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے رٹا نے کہا کہ دونوں ملکوں نے آزاد تجارتی معاہدے کی توثیق کردی ہے اور اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ معاہدہ 20 اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’نیوزی لینڈ کے لیے یہ ایک پرعزم اور متوازن معاہدہ ہے۔ ہم اسے نسل میں ایک بار ملنے والا ایسا موقع سمجھتے ہیں جو دونوں ملکوں کے لیے حقیقی فوائد لے کر آئے گا۔‘‘ رٹا نے کہا کہ اس معاہدے سے ہندوستانی برآمد کنندگان کو خاص طور پر فائدہ ہوگا، کیونکہ معاہدہ نافذ ہونے کے پہلے ہی دن ہندوستان سے نیوزی لینڈ جانے والی تمام برآمدات پر کوئی درآمدی ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کے لیے پہلے ہی دن تمام ہندوستانی برآمدات نیوزی لینڈ میں بغیر ڈیوٹی کے داخل ہوں گی۔ یہ ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑی تبدیلی اور اہم موقع ہے۔‘
‘ نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ ایف ٹی اے سے صارفین کو بھی فائدہ ہوگا اور زراعت اور باغبانی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی صارفین اس تجارتی معاہدے کے ذریعے نیوزی لینڈ کے کیوی پھل، سیب اور شراب جیسی مصنوعات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ رٹا نے مزید کہا کہ زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں زیادہ تعاون کے ذریعے دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ معلومات، تجربات اور جدید طریقوں کا تبادلہ کرسکیں گے۔ ان کے مطابق نیوزی لینڈ کی موجودہ ہندوستانی برآمدات میں سے تقریباً 57 فیصد مصنوعات معاہدے کے نافذ ہونے کے پہلے ہی دن بغیر ڈیوٹی کے ہندوستانی مارکیٹ میں داخل ہوسکیں گی۔
معاہدے کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد یہ حصہ بڑھ کر تقریباً 82 فیصد ہوجانے کی توقع ہے۔ ہندوستانی حکومت کے مطابق اس معاہدے کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی مارکیٹ میں ہندوستان کی 100 فیصد برآمدات کو زیرو ڈیوٹی رسائی حاصل ہوجائے گی۔ اس میں ٹیکسٹائل، چمڑا اور جوتے، انجینئرنگ مصنوعات اور تیار شدہ غذائی اشیا سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔ رٹا نے کہا کہ ایف ٹی اے دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے، جو گزشتہ چند برسوں میں اعلیٰ سطحی دوروں اور دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کیے جانے سمیت کئی اقدامات کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایف ٹی اے اس تعلق کا ایک اہم حصہ ہے۔