دلائی لامہ کی نوبل امن انعام یافتہ نوی پلّے کو مبارک باد

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
دلائی لامہ کی نوبل امن انعام یافتہ نوی پلّے کو مبارک باد
دلائی لامہ کی نوبل امن انعام یافتہ نوی پلّے کو مبارک باد

 



دھرم شالہ: تبت کے روحانی رہنما چودھویں دلائی لامہ نے ہفتے کے روز ہندوستانی نژاد جنوبی افریقی قانون داں اور انسانی حقوق کی علم بردار نوی نتھم ’’نوی‘‘ پلّے کو 2026 کا نوبل امن انعام دیے جانے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے انسانی حقوق سے محروم افراد کے لیے ان کی زندگی بھر کی جدوجہد اور امن و بین الاقوامی قانون کے فروغ میں ان کی خدمات کی تعریف کی۔ دلائی لامہ نے نوی پلّے کو لکھے گئے ایک خط میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی کوششوں کا اعتراف کیا اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا، ’’آپ نے دنیا بھر میں ان لوگوں کے حقوق کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ہے جنہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔‘‘ قانونی اداروں کی اہمیت اور جواب دہی پر روشنی ڈالتے ہوئے دلائی لامہ نے کہا، ’’میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ جس ملک میں قانون کی بالادستی ہو، عدلیہ آزاد ہو اور صحافت کو آزادی حاصل ہو، وہ ملک اپنے عوام کے ساتھ ساتھ پوری عالمی برادری کی خدمت کرنے کے لیے بھی بہتر طور پر تیار ہوتا ہے۔ جہاں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی، وہاں ناانصافی اور تکالیف کا پیدا ہونا لازمی ہے۔‘

‘ تبت کے روحانی رہنما نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے نوی پلّے کی خدمات کا بھی ذکر کیا، بالخصوص تبت سے متعلق معاملات پر ان کی آواز اٹھانے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے لکھا، ’’ایک تبتی ہونے کی حیثیت سے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے عہدے پر رہتے ہوئے چین سے تبت کے بنیادی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کرنے کی آپ کی کوششوں کی دل سے قدر کرتا ہوں۔‘‘ اپنے پیغام کے اختتام پر دلائی لامہ نے نوی پلّے کا نوبل امن انعام حاصل کرنے والوں کی برادری میں خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ عالمی امن اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

انہوں نے کہا، ’’میں نوبل امن انعام یافتگان کی برادری میں آپ کا گرم جوشی کے ساتھ خیرمقدم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ ہم سب کے لیے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں اپنا تعاون جاری رکھیں گی۔‘‘ نوی پلّے کو جمعہ کے روز 2026 کے نوبل امن انعام سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ناروے کی نوبل کمیٹی کے مطابق، انہیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

انعام کا اعلان کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ نوی پلّے نے غیر معمولی حوصلے اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک زیادہ جامع عالمی قانونی نظام کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا، ’’2026 کا نوبل امن انعام ایسی شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے غیر معمولی حوصلے اور دیانت داری کے ساتھ ایک زیادہ جامع عالمی قانونی نظام کی تشکیل میں رہنمائی کی ہے۔ اس سال کی انعام یافتہ شخصیت نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔‘‘

نوی پلّے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں نسل پرستی اور امتیازی سلوک پر مبنی نظام کے دور میں ہندوستانی تمل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ نوبل کمیٹی کے مطابق، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت اختیار کی اور معاشرے میں رائج منظم امتیاز، نسلی تفریق اور لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کے پیشہ ورانہ سفر میں جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ، روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینا شامل ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔

اس کے علاوہ، حال ہی تک وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ تھیں۔ نوی پلّے اس وقت بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس مقدمے کی جج ہیں جس میں میانمار پر نسل کشی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ نوبل کمیٹی نے بین الاقوامی قانونی اداروں کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کو بھی نمایاں کیا۔ کمیٹی کے مطابق، ان کی جدوجہد اس بات کی مثال ہے کہ قانونی اقدامات جنگ اور تشدد کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔