تائی پے: تائیوان کے حکام ان الزامات کی جانچ کر رہے ہیں کہ جنوبی تائیوان میں کام کرنے والی ایک ڈاکٹر، جس نے چین میں طبی تعلیم حاصل کی تھی، نے مبینہ طور پر امریکہ کی جعلی میڈیکل ڈگری کے ذریعے لائسنس حاصل کیا اور ایک دوسرے نام سے مریضوں کا علاج کرنے لگی۔ تائی پے ٹائمز نے ہفتے کے روز یہ خبر دی۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد چین سے حاصل کی گئی طبی اسناد کو تسلیم نہ کرنے کی تائیوان کی پالیسی اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طبی ماہرین کی اسناد کی جانچ پڑتال کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔
تائی پے ٹائمز کے مطابق، اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ اس نے تائنان میں کام کرنے والی ایک ماہرِ امراضِ باطن کو پہچان لیا ہے۔ صارف کے مطابق، وہ خاتون اس کی جان پہچان کی تھی اور اس نے چین میں طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ پوسٹ میں الزام لگایا گیا کہ تعلیم مکمل کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد اس خاتون نے اپنے دوستوں سے رابطہ ختم کر لیا اور بعد میں ایک دوسرے نام سے ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرنے لگی۔
دعویٰ کیا گیا کہ اس نے کیلی فورنیا یونیورسٹی، ریور سائیڈ کی جانب سے جاری کردہ ڈگری کا استعمال کیا، جس کے جعلی ہونے کا شبہ ہے۔ سوشل میڈیا صارف نے یہ بھی کہا کہ دونوں ناموں میں سے کسی کے تحت بھی اس ڈاکٹر کے طبی لائسنس یا سند کا ریکارڈ انٹرنیٹ پر نہیں مل سکا۔ تائیوان کی وزارتِ صحت و بہبود نے کہا ہے کہ ان الزامات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ وزارت کے شعبۂ طبی امور کی نائب ڈائریکٹر لیو یو چنگ نے کہا کہ تائیوان میں لائسنس حاصل کرنے کے لیے چین سے حاصل کی گئی طبی اسناد کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔
تائیوان اور چین کے تعلقات سے متعلق قانون کے تحت یہ پابندی جدید طب، دندان سازی اور روایتی چینی طب کی اسناد پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ تائی پے ٹائمز کے مطابق، دوسرے غیر ملکی ممالک سے طبی ڈگری حاصل کرنے والے امیدوار تائیوان میں طبی لائسنس کے امتحان میں شرکت کے اہل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے تعلیمی ادارے مقررہ منظوری کے معیار پر پورے اتریں اور امیدوار تعلیمی اہلیت سے متعلق شرائط پوری کریں۔ اس کے علاوہ ان کے لیے قومی سطح کا لائسنسنگ امتحان پاس کرنا بھی ضروری ہے۔
امتحانات کے نائب وزیر ہوانگ چنگ چانگ نے بتایا کہ لائسنس کے لیے درخواست دینے والوں کے پس منظر کی جانچ کی جاتی ہے۔ بیرون ملک سے تعلیمی اسناد حاصل کرنے والے امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ اور بین الاقوامی سفر کی تفصیلات کی بھی باریک بینی سے جانچ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی سرکاری شکایت یا تحقیقات کی درخواست موصول ہوتی ہے تو حکام باقاعدہ جانچ شروع کر سکتے ہیں۔ یہ معاملہ چین کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی گئی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔
تائیوان کی وزارتِ تعلیم کے شعبۂ اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل لیاؤ کاؤ شین نے کہا کہ تائیوان عام طور پر چین کی جینان یونیورسٹی کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ اس یونیورسٹی کے چینی کمیونسٹ پارٹی کے شعبۂ متحدہ محاذ کے ساتھ تعلقات بتائے گئے ہیں، اگرچہ بعض مخصوص صورتوں میں استثنا بھی دیا جاتا ہے۔