سوئس صدر: ہندوستان کا دورہ دو طرفہ شراکت داری کا اہم قدم

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
سوئس صدر: ہندوستان کا دورہ دو طرفہ شراکت داری کا اہم قدم
سوئس صدر: ہندوستان کا دورہ دو طرفہ شراکت داری کا اہم قدم

 



نئی دہلی: سوئس کنفیڈریشن کے صدر گائے پارملین نے پیر کو کہا کہ ہندوستان کا ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان ’’قریبی اور دیرینہ شراکت داری‘‘ کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے صحن میں سرکاری سطح پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدارتی محل پہنچنے پر صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا خیرمقدم کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر پارملین نے کہا، ’’یہ دورہ اس بات کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور ہندوستان دونوں اپنے باہمی تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے سفارتی تعلقات ’’مشترکہ جمہوری اقدار، اعتماد اور باہمی احترام‘‘ پر قائم ہیں۔ سوئس صدر نے کہا، ’’میرا دورہ ہماری قریبی، وسیع اور دیرینہ شراکت داری کو مزید فروغ دینے، گہرا کرنے اور مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مجھے خوشی اور اعزاز حاصل ہے کہ ہمیں دو طرفہ اور عالمی اہمیت کے معاملات پر خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے خاص طور پر خوشی ہے کہ ہندوستان میں میرا قیام ہندوستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے، ٹیپا، کے نافذ ہونے کی پہلی سالگرہ منانے کا موقع فراہم کرے گا۔‘

‘ ہندوستان اور یورپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹیپا) ایک وسیع آزاد تجارتی معاہدہ ہے، جس میں ای ایف ٹی اے کے چار رکن ممالک آئس لینڈ، لیختن اسٹائن، ناروے اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ یہ معاہدہ 10 مارچ 2024 کو باضابطہ طور پر طے پایا تھا اور یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہوا۔ صدر پارملین نے کہا، ’’یہ اس بات کا جشن منانے کا مناسب وقت ہے کہ ہم نے مل کر اب تک کتنا سفر طے کیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کریں۔‘

‘ سوئس صدر پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے کے لیے ہندوستان پہنچے۔ اس اعلیٰ سطحی دورے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، سائنسی ترقی، تکنیکی اختراع اور افرادی قوت کی نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق صدر پارملین کے ساتھ اعلیٰ حکام اور کاروباری شعبے کے اہم نمائندوں پر مشتمل ایک وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔ یہ ہندوستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جبکہ رواں سال یہ ان کا دوسرا ہندوستانی دورہ ہے۔ وہ فروری 2026 میں نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے تھے۔ بعد میں وزیر اعظم مودی اور صدر پارملین کے درمیان دو طرفہ مذاکرات ہوں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع، نقل و حرکت، ثقافتی تبادلوں اور عوامی سطح پر رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

دونوں رہنما علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، جس میں کثیر ملکی پلیٹ فارموں پر باہمی تعاون بھی شامل ہے۔ دورے کے دوران صدر پارملین صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیے کی میزبانی کریں گی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی سوئس صدر سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ صدر پارملین 7 اکتوبر کو دوسرے ہندوستان-ای ایف ٹی اے پراسپیریٹی سمٹ میں شرکت کریں گے۔ یہ تقریب ہندوستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کے نافذ ہونے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جائے گی۔

وزارت خارجہ نے سوئٹزرلینڈ کو ہندوستان کا اہم اقتصادی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ای ایف ٹی اے کے رکن ممالک میں سوئٹزرلینڈ ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔ وزارت نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور دو طرفہ رشتوں کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل اعلیٰ سطحی مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزارت خارجہ نے کہا، ’’ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔ یہ دورہ باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور باہمی دلچسپی کے نئے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرے گا۔‘