روس میں طاعون سے مشتبہ موت، امریکہ نے معلومات طلب کرلیں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
روس میں طاعون سے مشتبہ موت، امریکہ نے معلومات طلب کرلیں
روس میں طاعون سے مشتبہ موت، امریکہ نے معلومات طلب کرلیں

 



واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ روس میں پلمونری طاعون کے ایک مشتبہ مہلک معاملے سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے ماسکو سے اس معاملے کی درست اور مکمل معلومات فوری طور پر جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ فاکس نیوز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ واشنگٹن کو جنوب مشرقی سائبیریا میں واقع ارکوتسک اوبلاست میں مبینہ طور پر ہونے والی موت کی اطلاع ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ امریکی حکام اس صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) سمیت دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے سے متعلق کئی تفصیلات کی ابھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے روسی حکام پر زور دیا کہ وہ اس واقعے سے متعلق تمام معلوم حقائق سامنے لائیں۔ سابق سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) افسر ڈین ہوفمین نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ امکان ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے اس واقعے سے متعلق مختلف ذرائع سے جامع معلومات جمع کر رہے ہوں گے۔ ہوفمین نے کہا، ’’میں یہ بھی توقع کروں گا کہ ماسکو میں ہمارا سفارت خانہ سرکاری سطح پر اپنے روسی سفارتی ہم منصبوں سے رابطہ کر رہا ہوگا، کیونکہ روس میں ہمارے کچھ لوگ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا، ’’واشنگٹن خطے میں اپنے تمام اتحادیوں اور شراکت داروں سے بات کرے گا اور جو معلومات ہمارے پاس ہیں، انہیں ان کے ساتھ شیئر کرے گا۔‘‘ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار کے مطابق پلمونری طاعون کا علاج عام اینٹی بایوٹک ادویات سے ممکن ہے، خاص طور پر اس وقت جب بیماری کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی علاج شروع کر دیا جائے۔ سی ڈی سی کے مطابق بیماری کا شبہ ہونے یا ممکنہ طور پر متاثر ہونے کی صورت میں فوری طبی کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔ بیماری کی شدت اور دیگر طبی عوامل کے مطابق مریض کو ورید کے ذریعے یا منہ کے راستے جراثیم کش ادویات دی جا سکتی ہیں۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ پلمونری طاعون کے قدرتی طور پر پھیلنے کے واقعات دنیا کے مختلف خطوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ بیرون ملک موجود امریکی شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ محکمہ نے بیرون ملک سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام‘ (ایس ٹی ای پی) کے ذریعے اپنا اندراج کرائیں، تاکہ انہیں وقتاً فوقتاً اہم سفری ہدایات اور تازہ معلومات موصول ہوتی رہیں۔