مودی اور لِختنشتائن کے شہزادے کے درمیان اہم مذاکرات

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
مودی اور لِختنشتائن کے شہزادے کے درمیان اہم مذاکرات
مودی اور لِختنشتائن کے شہزادے کے درمیان اہم مذاکرات

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں لِختنشتائن کے موروثی شہزادے آلوئس کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ شہزادے کا یہ ہندوستان کا دوسرا سرکاری دورہ ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے موروثی شہزادے آلوئس اور ان کی اہلیہ موروثی شہزادی سوفی سے حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات کی۔ شاہی جوڑے نے راج گھاٹ پہنچ کر بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گاندھی جی کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری جینت چودھری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ہندوستان کے سرکاری دورے پر آئے موروثی شہزادے آلوئس سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’ہندوستان کے سرکاری دورے پر آئے لِختنشتائن کے موروثی شہزادے آلوئس سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور لِختنشتائن کے درمیان دوطرفہ شراکت داری مختلف شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جسے ہندوستان اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹیپا) سے پیدا ہونے والے مواقع سے تقویت مل رہی ہے۔ جے شنکر نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ شہزادے کی ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اس سے قبل منگل کو راشٹرپتی بھون میں منعقدہ رسمی استقبالیہ تقریب کے دوران موروثی شہزادے آلوئس نے کہا کہ لِختنشتائن کی جانب سے ہندوستان کا پہلا سرکاری دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا ملک نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ موروثی شہزادی سوفی بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے شاہی جوڑے کا استقبال کیا۔

شہزادے آلوئس نے کہا، ’’مجھے اس غیر معمولی ملک ہندوستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر یہاں آکر بہت اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی دورہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے لِختنشتائن کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدے، یعنی ٹیپا، کا طے پانا ایک اہم سنگ میل تھا۔ یہ معاہدہ ایک سال قبل نافذ ہوا تھا۔ شہزادے نے کہا کہ ان کا ملک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے اور ہندوستان کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے خاص طور پر اختراع، جدید مینوفیکچرنگ، مالیاتی خدمات، تعلیم اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں اور دیگر کئی میدانوں میں دونوں ملکوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہیں اور اس سے دونوں ممالک کو طویل مدتی فائدہ پہنچے گا۔ شاہی جوڑے نے منگل کو راشٹرپتی بھون میں منعقدہ رسمی استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کی، جہاں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی موجود تھے۔ موروثی شہزادہ آلوئس اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان کے سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے ہیں۔

وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے سے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو نئی تقویت ملنے کی توقع ہے۔ وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان اور لِختنشتائن کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ شہزادہ آلوئس وڈودرا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نئی دہلی پہنچے، جہاں مرکزی وزیر مملکت جینت چودھری نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ وزارت کے مطابق یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی رفتار فراہم کرے گا۔ شہزادہ آلوئس پیر کو ممبئی پہنچے تھے، جہاں سے وہ اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں وڈودرا گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ موروثی شہزادی سوفی کے علاوہ اعلیٰ سطحی سرکاری وفد اور صنعت کاروں پر مشتمل کاروباری وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔

اس دورے کا مقصد سفارتی تعلقات، تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور مرکزی وزیر مملکت برائے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری جینت چودھری کی بھی شہزادہ آلوئس سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ سرکاری دورہ ہندوستان اور لِختنشتائن کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کو خاص طور پر 2025 میں ہندوستان اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدے کے نفاذ کے بعد نئی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

ہندوستان اور لِختنشتائن نے 1993 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور 2023 میں دونوں ملکوں نے اپنے دوطرفہ تعلقات کے 30 سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ شہزادہ آلوئس اس سے قبل فروری 2026 میں مصنوعی ذہانت سے متعلق امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تھے۔ وہ 2010 اور 2018 میں بھی ہندوستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق شاہی وفد کا سرکاری دورہ بدھ کو مکمل ہوگا اور اس کے بعد وفد ہندوستان سے روانہ ہو جائے گا۔