صنعا: ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی تحریک نے حالیہ ہفتوں میں اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ حوثیوں نے بار بار سعودی عرب کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، جو یمن سے سیکڑوں میل دور واقع ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یمن کے اندر ایک اہم بحری تجارتی راستے کے قریب کے علاقے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف اوقات میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے حوثیوں کے خلاف شدید فضائی حملے کیے، لیکن ان کارروائیوں کے باوجود حوثی پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتے گئے۔
سعودی عرب کو حوثیوں کے تازہ حملوں کا مقابلہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، حالانکہ اس کے پاس امریکہ سے حاصل کردہ جدید اور کہیں زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں۔ سعودی عرب کے ایک سینئر سفارت کار نے رواں ہفتے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کشیدگی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، حوثیوں نے گرمیوں کے موسم میں مذاکرات کی پیش کش بھی ٹھکرا دی تھی۔ حوثی ایک وسیع اور پہاڑی علاقے میں سرگرم ہیں، جہاں وہ اپنے جنگجوؤں اور فوجی تنصیبات کو مختلف مقامات پر پھیلا سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ تیل کی بڑی تنصیبات اور اہم تجارتی راستوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر ماہرین کے مطابق، ایران اور لبنان و عراق میں اس کے اتحادی حوثیوں کو تکنیکی مہارت، تربیت اور جدید ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے چین کے سپلائرز سے ایسے پرزے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو تقریباً 1200 میل، یعنی 2000 کلومیٹر تک مار کرنے والے درست نشانے پر حملہ کرنے والے بیلسٹک میزائل بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ حوثیوں کے پاس پہلے ہی بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کی وسیع اقسام موجود ہیں۔
ان میں سے کئی ہتھیار ایرانی ماڈل سے مشابہت رکھتے ہیں اور خلیجی ممالک کے علاوہ اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید جہاز شکن میزائلوں اور بحری ڈرونز کا بھی استعمال کیا ہے، جس سے ایک اہم عالمی تجارتی راستے کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ایران حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے، کیونکہ ایسا کرنا اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہوگا۔ چین نے تازہ رپورٹ پر براہ راست کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ فوجی سازوسامان کی برآمد کے معاملے میں محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی اختیار کرتا ہے۔
یمن جانے والی متعدد کھیپوں سے ایران کے اسمگل شدہ ہتھیار اور ان کے پرزے ضبط کیے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی 2024 کی ایک رپورٹ میں حوثیوں، ایران اور اس کے دیگر اتحادیوں کے درمیان وسیع فوجی تعلقات کی تفصیلات بھی پیش کی گئی تھیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، 2024 تک حوثیوں نے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار جنگجو بھرتی کر لیے تھے، جبکہ 2015 میں ان کی تعداد صرف 30 ہزار تھی۔ 2015 ہی میں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تھی اور بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر دی تھی۔ حوثی نسبتاً سستے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب کی سرحد کے قریب تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم ڈھانچوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہ ساحل کے قریب موجود تیل بردار جہازوں پر بھی حملے کر سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران انہیں رہنمائی کے جدید نظام جیسے اہم پرزے فراہم کرتا ہے، لیکن حوثی اپنے زیادہ تر ہتھیار یمن میں خود بھی تیار کر سکتے ہیں۔
ان ہتھیاروں کی تیاری پر سعودی عرب کے جدید ترین میزائل شکن نظاموں کے مقابلے میں بہت کم لاگت آتی ہے۔ یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ حوثی بہتر میزائل تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس امریکہ سے حاصل کردہ جدید جنگی طیاروں اور میزائل دفاعی نظاموں سمیت متعدد طاقتور ہتھیار موجود ہیں۔ گزشتہ موسم بہار میں ایران کے ساتھ جنگ کے عروج کے دوران بھی ان جدید دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، جدید ترین میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے والے نظاموں کے ذخیرے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب حوثیوں اور ایران کی حمایت یافتہ عراقی مسلح تنظیموں کے حملوں کو مزید کتنے عرصے تک روک سکے گا۔
ان عراقی تنظیموں پر ایک ایسے حملے کا الزام بھی ہے جس کے باعث تیل کی برآمد کے لیے اہم مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کو مختصر مدت کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بار بار حملے کیے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی آرامکو کے صدر دفتر کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ دونوں مقامات یمن سے سیکڑوں میل دور ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ملک کے اہم منصوبوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
سعودی عرب اپنے آپ کو عالمی تجارت، سیاحت اور کھیلوں کا مرکز بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن مسلسل حملے اس منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا رقبہ ٹیکساس سے تقریباً تین گنا بڑا ہے اور اس کے مختلف علاقوں میں اہم تنصیبات دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یمن کے ساتھ اس کی سرحد تقریباً 1300 کلومیٹر، یعنی 800 میل طویل ہے، جو دشوار گزار صحرائی علاقوں سے گزرتی ہے۔ اس وسیع علاقے کی حفاظت کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ حوثی شمالی یمن میں جڑیں رکھنے والی ایک شیعہ مذہبی اور سیاسی تحریک ہے۔ وہ سعودی عرب کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کیونکہ سعودی حکومت یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتی ہے۔
سنی اکثریتی سعودی عرب کو طویل عرصے سے خدشہ رہا ہے کہ اس کی سرحد پر ایران کا ایک طاقتور اور بھاری ہتھیاروں سے لیس اتحادی مضبوط ہو جائے گا۔ حوثیوں نے جب 2014 میں دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تو سعودی عرب نے 2015 میں جنگ میں مداخلت کی۔ اگلے سات برسوں کے دوران سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف بار بار فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں اکثر عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب، یمن کی حکومتی افواج اور جنوبی علیحدگی پسند گروپ حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام رہے اور محاذوں کی صورت حال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ بالآخر 2022 میں جنگ بندی ہوئی۔ 2023 میں غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اسرائیل کی ناکہ بندی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
جنوری 2024 سے امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال کے اوائل میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شدت لانے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت امریکی فوج کے ایک افسر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ایک ہزار سے زیادہ اہداف پر تقریباً دو ہزار گولہ بارود اور میزائل استعمال کیے گئے۔ امریکی حملوں کے کئی ہفتوں بعد حوثیوں نے امریکی جہازوں پر حملے بند کرنے پر اتفاق کیا، لیکن اسرائیل کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے 2025 کے اواخر میں حوثیوں پر حملے کیے، جن میں حوثی وزیر اعظم اور کئی دیگر سینئر عہدیدار ہلاک ہوئے۔
اسرائیل نے ایک اہم بندرگاہ کو بھی بار بار نشانہ بنایا۔ ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی کئی مہینوں میں حوثی بڑی حد تک براہ راست لڑائی سے دور رہے، لیکن جولائی میں انہوں نے سعودی عرب پر حملے دوبارہ شروع کر دیے اور سعودی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ حالیہ جنگوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے کسی مسلح گروپ کو فیصلہ کن شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔ فضائی حملوں کے بعد زمینی فوج کی ضرورت ہوتی ہے، جو علاقے میں داخل ہو کر اہم مقامات پر قبضہ کرے اور مخالف جنگجوؤں کو وہاں دوبارہ جمع ہونے سے روکے۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والی زمینی قوتیں خود شدید اختلافات کا شکار ہیں۔
ان گروپوں نے جنوری میں بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑائی کی تھی۔ ان میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے وفادار جنگجو اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیمیں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات بعض معاملات میں سعودی عرب کا حریف بھی ہے اور وہ 2019 میں یمن سے اپنی فوجیں واپس بلا چکا ہے۔ اس صورت حال میں حوثیوں کو مستقل طور پر شکست دینا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، کیونکہ ان کے مخالفین کے درمیان اتحاد کی کمی زمینی کارروائیوں کو کمزور کرتی ہے۔