شنگھائی: ثانیہ جوشی نے ورلڈ اسکلز شنگھائی 2026 میں ریٹیل سیلز کے شعبے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ہندوستان کے لیے اس شعبے میں پہلی شرکت اور پہلا تمغہ حاصل کیا۔ جوشی نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ ان تمام لوگوں کو دیا جنہوں نے ان کے سفر میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ہے۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ثانیہ جوشی نے کہا، ’’میں بہت خوش ہوں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں یہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ میں ان تمام لوگوں کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے پورے سفر میں میرا ساتھ دیا۔ یہ تمغہ صرف میرا نہیں، ہندوستان کا بھی ہے۔ ہندوستان نے پہلی بار اس اسکل کیٹیگری میں حصہ لیا ہے اور یہ کیٹیگری بھی نئی ہے۔‘‘ شنگھائی میں منعقدہ 48ویں ورلڈ اسکلز مقابلے میں ہندوستان نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر 10ویں پوزیشن حاصل کی۔ ہندوستانی دستے نے 6 چاندی کے تمغے اور 20 میڈلز فار ایکسیلنس جیتے۔ 2024 کے گزشتہ مقابلے میں ہندوستان 13ویں مقام پر رہا تھا۔
چین کے شنگھائی میں نیشنل ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سینٹر میں 22 سے 27 ستمبر تک منعقد ہونے والے اس مقابلے کو اکثر ’’پیشہ ورانہ ہنر کے اولمپک کھیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ مقابلے میں تقریباً 70 ممالک اور خطوں کے 1400 سے زیادہ نوجوان ماہرین نے حصہ لیا۔ انہوں نے انڈسٹری 4.0، ویب ٹیکنالوجیز، بیکری اور فیشن ٹیکنالوجی سمیت 64 سرکاری اسکل شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ریٹیل سیلز کے شعبے میں پہلی مرتبہ شرکت تھی۔ یہ ان 11 نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں شامل ہے جن میں ہندوستان نے پہلی بار مقابلہ کیا۔
ریٹیل سیلز میں صارفین کو مرکز میں رکھتے ہوئے خدمات فراہم کرنے اور خریداروں کو فزیکل اسٹورز، آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل ریٹیل ماحول میں مصنوعات تک رسائی اور انتخاب میں مدد دینے کی صلاحیت کو جانچا جاتا ہے۔ ثانیہ جوشی نے اس شعبے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ہندوستان کے مجموعی تمغوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ ہندوستان کے 70 رکنی دستے کو نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) نے منظم کیا تھا۔
ہندوستان کے چھ چاندی کے تمغے بیکری، انڈسٹریل ڈیزائن اور ریٹیل سیلز سمیت مختلف شعبوں میں حاصل ہوئے، جبکہ 20 ہندوستانی شرکا نے میڈلز فار ایکسیلنس حاصل کیے۔ یہ ہندوستان میں پیشہ ورانہ ہنر کی مختلف شعبوں میں موجود صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوستانی بیکر اسمرتی نمبیار نے بھی چاندی کا تمغہ حاصل کیا اور ہندوستانی شرکا میں سب سے زیادہ اسکور حاصل کرنے پر باوقار ’’بیسٹ آف دی نیشن‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسمرتی نمبیار نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ مجھے ابھی معلوم ہوا کہ مجھے بیسٹ آف دی نیشن ایوارڈ بھی ملا ہے۔ چاندی کا تمغہ بھی حاصل ہوا ہے۔ میں اپنے مینٹور، خاندان، والدین اور ان تمام شیفس کی بہت شکر گزار ہوں جن کے ساتھ میں نے کام کیا۔ انہی کی وجہ سے میں یہ کامیابی حاصل کر سکی۔‘
‘ ڈیجیٹل انٹرایکٹو میڈیا ڈیزائن کے شعبے میں کوود اجے گنگراڈے نے سخت مقابلے کے بعد چاندی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بالکل ناقابل یقین ہے۔ یہاں آکر تمغہ جیتنا آپ کی تمام تیاری اور محنت کو بامعنی بنا دیتا ہے۔‘‘ ڈینٹل پروستھیٹکس میں محمد سلام نے بھی ہندوستان کے لیے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں بے حد خوش ہوں۔ یہاں تک پہنچنے اور ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے لیے میں نے بہت محنت کی ہے۔ اس تعاون کے لیے سب کا بہت شکریہ۔ اس طرح کے مقابلے میں یہ میری پہلی شرکت تھی۔ چار مقابلہ کرنے والے تھے اور فرق بہت معمولی تھا، لیکن آج میں یہاں فاتح کی حیثیت سے کھڑا ہوں۔‘
‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آنے والی نسل کی رہنمائی کرنا اور ہندوستان کی مہارتوں کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ لاجسٹکس اینڈ فریٹ فارورڈنگ میں مہرالنساء بیگم نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کا سفر ایک انٹرن شپ سے شروع ہوا اور عالمی سطح کے اس مقابلے تک پہنچا۔ انہوں نے کہا، ’’میں بیان نہیں کرسکتی کہ یہ احساس کیسا ہے۔ میں نے اس کے لیے اپنا پورا دل اور جان لگا دی۔ اب یہاں پہنچ کر یہ تمغہ میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اپنے چیف ایکسپرٹ کی کمپنی میں انٹرن شپ کے دوران انہوں نے سابقہ امیدوار کی تربیت دیکھی، جس سے انہیں تحریک ملی۔ اس کے بعد انہوں نے مرحلہ وار ریاستی مقابلوں، علاقائی مقابلوں اور انڈیا اسکلز میں حصہ لیا۔
قومی سطح پر طلائی تمغہ جیتنے کے بعد انہیں ہندوستان کی نمائندگی کا موقع ملا اور اس کے بعد تین ماہ تک سخت تربیت کی۔ انڈسٹریل ڈیزائن ٹیکنالوجی میں پارتھ ووہرا نے چاندی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے وزارت اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ کے تحت قائم ادارہ جاتی نظام کا شکریہ ادا کیا۔ ووہرا نے اے این آئی سے کہا، ’’مجھے اپنے ملک کے لیے تمغہ جیت کر بہت فخر اور خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
گزشتہ سال میں گھر بیٹھا تھا اور میرے ایک فیکلٹی ممبر نے مجھے اس مقابلے کے لیے درخواست دینے کو کہا۔ درخواست دیتے وقت میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میں ملک کی نمائندگی کروں گا۔ آج میں تمغہ پہنے ہوئے ہوں اور مجھے واقعی بہت فخر ہے۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی صلاحیتیں سامنے لائیں، انڈیا اسکلز میں حصہ لیں اور اپنے ہنر کا مظاہرہ کریں۔ ورلڈ اسکلز شنگھائی 2026 کا اختتام اختتامی تقریب اور تمغے تقسیم کیے جانے کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر ورلڈ اسکلز کا پرچم جاپان کے ایچی کے حوالے کیا گیا، جو 2028 میں اگلے ورلڈ اسکلز مقابلے کی میزبانی کرے گا۔