مصنوعی ذہانت کے خطرات روکنے کے لیے حفاظتی ضابطے ضروری: آئی ایم ایف سربراہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 16-10-2026
مصنوعی ذہانت کے خطرات روکنے کے لیے حفاظتی ضابطے ضروری: آئی ایم ایف سربراہ
مصنوعی ذہانت کے خطرات روکنے کے لیے حفاظتی ضابطے ضروری: آئی ایم ایف سربراہ

 



بینکاک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے جمعہ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری طور پر حفاظتی ضابطے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کا موازنہ فارمولا ون کی ایسی تیز رفتار ریسنگ کار سے کیا جو بے قابو ہو کر پٹری سے اتر جائے اور لوگوں کو کچل دے۔ جارجیوا نے کہا، ’’ہم ایک دوڑ میں شامل ہیں اور سوال یہ ہے کہ ہم حفاظتی رکاوٹیں کیسے قائم کریں، تاکہ اگر کوئی گاڑی بے قابو ہو کر باہر نکلے تو لوگوں کی جان نہ لے۔‘

‘ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی صنعت سے وابستہ افراد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کام کی انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی لوگوں کو نقصان پہنچانے لگے تو اس کے فوائد بھی بے معنی ہو سکتے ہیں۔ جارجیوا مصنوعی ذہانت کے عالمی معیشت پر اثرات سے متعلق ایک مذاکرے میں اظہار خیال کر رہی تھیں۔ اس مذاکرے میں شرکت کرنے والوں میں اینتھروپک کے شریک بانی اور پالیسی امور کے سربراہ جیک کلارک بھی شامل تھے۔ کلارک ان ٹیکنالوجی ماہرین میں شامل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ضابطے بنانے کے لیے تیز رفتار اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔

اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے گزشتہ ماہ ایک بلاگ پوسٹ میں تجویز پیش کی تھی کہ دنیا کی سرکردہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو جدید ترین اے آئی نظاموں کی تیاری عارضی طور پر روکنے کے لیے باہمی تعاون پر مبنی طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔ کمپنی نے خبردار کیا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ انسان اس پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں۔ کلارک نے کہا، ’’میرے خیال میں صورت حال آپ کے بیان سے بھی زیادہ خراب ہے۔ یہ رات کے اندھیرے میں فارمولا ون کی ایسی دوڑ کی طرح ہے جس میں شاید گاڑیوں کے بریک بھی نہ ہوں۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ میں اپنے بچوں کے لیے جو کھلونے خریدتا ہوں، ان پر بھی ان سپر انٹیلی جنس نظاموں سے زیادہ ضابطے لاگو ہوتے ہیں جن پر میں اپنی ملازمت میں کام کرتا ہوں۔‘‘ کلارک کے مطابق، مصنوعی ذہانت کو منظم کرنے کے لیے پالیسی اور ضابطوں کا نظام تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اب دنیا اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اگر ہم نے اسے سنجیدگی سے لیا تو ہم اس پر قابو پانے کے قابل ہو جائیں گے۔ لیکن ان فیصلوں کا اختیار صرف کمپنیوں کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے اس معاملے میں غفلت برتی تو کسی نہ کسی شکل میں افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔‘

‘ مصنوعی ذہانت سے روزگار پر کیا اثر پڑے گا؟ مصنوعی ذہانت کے روزگار پر اثرات کی مکمل تصویر ابھی واضح نہیں ہے، لیکن آئی ایم ایف کی ایک تحقیق میں تین اہم رجحانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جارجیوا کے مطابق، تقریباً 10 فیصد ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے یا اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، بار بار دہرائے جانے والے کاموں پر مشتمل ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔ تیسرا رجحان خدمات کے شعبے میں روزگار سے متعلق ہے۔ سرمایہ کاری میں تیزی سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی ضروریات کے نتیجے میں خدمات کے شعبے میں نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

جارجیوا نے کہا، ’’مجموعی طور پر اس کا اثر مثبت ہے۔‘‘ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خدمات کے شعبے میں تنخواہیں زیادہ نہیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا، ’’اس صورت حال میں ایسے نوجوان، جو عام حالات میں پیشہ ورانہ نوعیت کی معمول کی ملازمتوں میں جاتے، اب اسٹار بکس میں کافی پیش کر رہے ہوں گے۔ میرے خیال میں دنیا کے نوجوان اپنے مستقبل کے لیے ایسا نہیں چاہتے۔‘

‘ بینک آف کینیڈا کے گورنر ٹف میکلم نے اس صورت حال کا موازنہ عالمی تجارت کو زیادہ کھولنے کے روزگار پر پڑنے والے اثرات سے کیا۔ ان کے مطابق، آزاد تجارت نے عالمی سطح پر بہت زیادہ دولت پیدا کی اور لاکھوں لوگوں کو غربت سے باہر نکالا، لیکن دوسری جانب لاکھوں افراد نے اپنا روزگار بھی کھو دیا، کیونکہ کئی صنعتوں نے اپنی ملازمتیں چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں منتقل کر دیں۔ میکلم نے کہا کہ مجموعی طور پر اس کے فوائد سامنے آئے، لیکن تجارت اور ٹیکنالوجی دونوں میں کچھ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور کچھ کو نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’آپ کو ان لوگوں کی مدد کا راستہ تلاش کرنا ہوگا جنہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر ان کے لیے اس نقصان سے نمٹنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہوگا تو شدید ردعمل سامنے آئے گا۔‘‘ اے آئی کے فوائد سب تک پہنچانے کی ضرورت بینکاک میں جمعرات اور جمعہ کو درجنوں افراد نے پُرامن مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کا مقصد بڑھتی ہوئی معاشی نابرابری اور دیگر مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا تھا۔ جارجیوا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بجلی اور ڈیجیٹل نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہو۔ اس کے ساتھ سائبر سکیورٹی بھی انتہائی اہم ہے۔

وسیع موضوعات پر ہونے والے اس مذاکرے کے دوران مقررین سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ جارجیوا نے بتایا کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنی کیلوریز پر نظر رکھی اور وزن کم کیا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ پہلے اپنے ذاتی اے آئی معاون کو حکم چلانے والا قرار دے چکی ہیں۔ اس مذاکرے میں انہوں نے مذاقاً کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے معاونین زیادہ شائستہ ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’میرا مطلب ہے کہ ہمیں جو اے آئی معاونین ملتے ہیں، وہ واقعی بہت پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم ان کے آداب بہتر بنانے پر بھی کام کر سکتے ہیں؟‘‘