کیف،: یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ہفتے کی صبح روسی میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 5 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین آئندہ ہفتے روس اور امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے۔ روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار منگل کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ملاقات کریں گے۔ اس بات چیت کا مقصد جنگ کے خاتمے کی راہ تلاش کرنا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ثالثی میں ہونے والے یہ چوتھے دور کے مذاکرات ہوں گے۔ اس سے پہلے فروری میں جنیوا میں بات چیت ہوئی تھی۔ امن کی کوششوں کی حمایت کرنے والی مغربی حکومتیں تعطل ختم کرنے کے لیے ایک نیا فارمولہ تلاش کر رہی ہیں، تاہم اس بات کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے کہ علاقائی اور سلامتی سے متعلق اہم معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔
قومی اور شہری حکام کے مطابق، رات کے وقت کیف پر داغے گئے روسی میزائلوں سے رہائشی مکانات اور تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ دنیپرو ندی پر واقع کیف کے ایک پل پر ٹریفک بند کر دی گئی، جبکہ بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے کہا کہ دشمن کے رات کے حملے میں کیف اور ژیتومیر علاقوں میں توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں توانائی کی فراہمی کی صورت حال انتہائی خراب ہے، جس سے شہر میں حرارت اور پانی کی فراہمی کے نظام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ادھر جنوبی یوکرین کے گاؤں کومیشووخا میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ گاؤں پیر کے روز اس وقت تباہی سے دوچار ہوگیا تھا، جب روسی رہنمائی یافتہ کئی بم ایک سابق اسکول اور اس کے قریب واقع پناہ گاہ پر گرے تھے۔ اس وقت وہاں رہائشی انسانی امداد حاصل کرنے کے لیے جمع تھے۔ اس حملے میں 55 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہفتے کی صبح مزید 2 لاشیں برآمد کی گئیں۔ سابق اسکول کو امدادی سامان تقسیم کرنے کا مرکز بنایا گیا تھا۔ کومیشووخا گاؤں زاپوریزیا علاقے میں محاذِ جنگ کے قریب واقع ہے۔