اٹلانٹا: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 30 اور 31 اکتوبر کو ہونے والے جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اٹلانٹا پہنچ گئے ہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ اسپوتنک کے مطابق، لاوروف اس اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس اور چین سمیت دیگر ملکوں کے نمائندوں کے ساتھ شرکت کریں گے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست کے ان رجحانات کا جائزہ شامل ہوگا جنہیں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ’’تباہ کن رجحانات‘‘ قرار دیا ہے۔ ادھر، ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اعلیٰ سطحی کثیر فریقی اجلاسوں اور دوطرفہ مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ اور کیریبین خطے کا دورہ کریں گے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جے شنکر اٹلانٹا اور سینٹ جانز میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ جیسوال نے کہا، ’’وزیر خارجہ 30 سے 31 اکتوبر 2026 تک امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں منعقد ہونے والے جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کے موقع پر وہ کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی حصہ لیں گے اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ کئی دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔‘
‘ امریکہ میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد جے شنکر کیریبین خطے کا سفر کریں گے، جہاں وہ دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ جیسوال نے بتایا، ’’اٹلانٹا سے وزیر خارجہ اینٹیگوا اور باربوڈا کے شہر سینٹ جانز جائیں گے، جہاں وہ یکم سے 4 نومبر تک منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گے۔‘‘ دولتِ مشترکہ کے اجلاس کے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بار اجلاس کا مرکزی موضوع ’’خوشحال دولتِ مشترکہ کے لیے شراکت داری اور سرمایہ کاری کو تیز کرنا‘‘ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اس اہم اجلاس میں شرکت کا منتظر ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سرکاری بیان کے مطابق، وزیر خارجہ مارکو روبیو 30 سے 31 اکتوبر تک امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کا دورہ کریں گے اور جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ دو روزہ اجلاس کے دوران روبیو دنیا کی بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ کو ایک جگہ جمع کریں گے، تاکہ مشترکہ اقتصادی اور سلامتی سے متعلق اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عملی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ اجلاس کے دوران واشنگٹن جی 20 کے شراکت دار ملکوں کے ساتھ مل کر ان اہم جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کرے گا جو عالمی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق، بات چیت میں سپلائی چین میں رکاوٹوں کو کم کرنے، سمندری راستوں پر آزادانہ آمد و رفت کو درپیش خطرات سے نمٹنے اور توانائی و غذائی تحفظ یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ امریکی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔
وزارت کے مطابق، یہ اعلیٰ سطحی مذاکرات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے آئندہ جی 20 سربراہ اجلاس کی بنیاد تیار کریں گے اور اس وسیع تر اقتصادی ایجنڈے کی تشکیل میں مدد دیں گے جس پر عالمی رہنما غور کریں گے۔ بیان میں کہا گیا، ’’اجلاس کے دوران امریکہ جی 20 کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کام کرے گا جو عالمی معیشت کو جھٹکے دے رہے ہیں۔ ان میں سمندری راستوں پر آزادانہ آمد و رفت کو لاحق خطرات، توانائی اور غذائی تحفظ کے مسائل اور سپلائی چین میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
عالمی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ یہ بات چیت صدر ٹرمپ کے جی 20 سربراہ اجلاس اور اس وسیع تر اقتصادی ایجنڈے کی تیاری میں مدد دے گی جس پر عالمی رہنما غور کریں گے۔‘‘ واضح رہے کہ جی 20 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کا ایک بین الاقوامی فورم ہے، جس کا مقصد عالمی معیشت اور مالیاتی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔ اس کے ارکان میں دنیا کی بڑی معیشتیں شامل ہیں، جو عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 85 فیصد، بین الاقوامی تجارت کا 75 فیصد سے زیادہ اور دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔