واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو روس اور چین کی جانب سے ایران کی مدد کیے جانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ دونوں ممالک تہران کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مدد کے لیے آگے آنے کی صورت میں ماسکو اور بیجنگ کو بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’میں انتہا پسند بائیں بازو کے احمقوں اور پاگلوں کے بہت سے تبصرے دیکھ رہا ہوں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ چین اور روس ’شاندار‘ اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا کر بھی رہے ہیں تو بہت محدود سطح پر، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ بالکل بھی ایسا کر رہے ہیں۔ انہیں اس سے بہت کچھ کھونا پڑے گا اور ہمیں اس کا علم ہو جائے گا، وہ بھی بہت جلد!‘‘ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت ہوئی ہے۔ ان ملاقاتوں اور رابطوں میں توانائی کی فراہمی، اقتصادی تعاون اور دو طرفہ تعلقات جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے روسی صدر پوتن سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ اس گفتگو کے بعد انہوں نے ایک مجوزہ انتظام کا اعلان کیا، جس کے تحت روس امریکہ اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرے گا۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ انہوں نے اسے بامعنی اور دوستانہ بات چیت قرار دیا۔ اس دوران اقتصادی منصوبوں، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے بعد ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روس فوری طور پر امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا۔
اس کے بعد نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن اور پھر دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورت حال کے مطابق، مختصر مدت میں مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے ڈیزل کی مجوزہ فراہمی کو توانائی کی قیمتوں میں کمی سے جوڑتے ہوئے کہا، ’’آبنائے ہرمز پر ہمارے مکمل کنٹرول اور روسی توانائی سے متعلق اس بڑے اعلان کے نتیجے میں امریکہ اور پوری دنیا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ رفتار سے اور بہت جلد کم ہوں گی!‘‘ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ٹرمپ کی بات چیت ستمبر میں شی کے واشنگٹن کے تین روزہ دورے کے دوران ہوئی تھی۔
امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان دوستی، طاقت اور کامیابی پر مرکوز قرار دیا تھا۔ اس دورے کے دوران چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں شی جن پنگ کی ٹرمپ سے یہ دوسری ملاقات تھی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری حقائق پر مبنی دستاویز کے مطابق، اس دورے کے بعد امریکہ اور چین نے دونوں سمتوں میں 30 ارب امریکی ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا پر محصولات کے حوالے سے زیادہ سازگار شرائط پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بات چیت کے لیے ایک نیا طریقۂ کار بھی قائم کیا گیا۔
دستاویز میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے مئی 2026 میں بیجنگ میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے دوران قائم کیے گئے ’امریکہ۔چین تجارتی بورڈ‘ اور ’امریکہ۔چین سرمایہ کاری بورڈ‘ کو عملی طور پر فعال کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی دستاویز کے مطابق، چین نے 2027 اور 2028 میں امریکہ سے کم از کم ایک کروڑ میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔