پاکستان میں گندم کی قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ، حکومت پر تنقید

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
پاکستان میں گندم کی قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ، حکومت پر تنقید
پاکستان میں گندم کی قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ، حکومت پر تنقید

 



کراچی:سندھ: پاکستان میں گندم کی ایک بوری کی قیمت میں 2500 پاکستانی روپے کے بھاری اضافے کے بعد حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے اور عام لوگوں کو غذائی اشیا کی بڑھتی قیمتوں سے راحت دینے میں ناکامی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر احمد گھنگھرا نے کہا کہ گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی پریشانیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔ یہ خاندان پہلے ہی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کو مستحکم کرنے اور ضروری غذائی اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب کرانے کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔ گھنگھرا نے نشاندہی کی کہ ماضی میں حکومت صوبائی بجٹ سے رقم مختص کرکے کسانوں سے گندم خریدتی تھی۔ اس طریقے سے بازار میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور صارفین کو راحت پہنچانے میں مدد ملتی تھی۔ ان کے مطابق، حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کی یہ پالیسی ختم کیے جانے سے قیمتوں میں اضافے کو تقویت ملی ہے، جس کے نتیجے میں عام خاندان مہنگائی کے دباؤ کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے ملکی معاشی پالیسیوں پر اثرات پر بھی سوال اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات میں غذائی تحفظ اور عوام کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر نے حکومت سے اپیل کی کہ معاشی اصلاحات کے نام پر ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جن سے عام پاکستانیوں کی قوت خرید مزید کمزور ہو جائے۔ گھنگھرا نے سرکاری اخراجات کے معاملے میں دوہرے معیار پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ارکان پارلیمان اور وزرا کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے، نیز سرکاری گاڑیوں اور طیاروں کی خریداری پر اسی طرح کی مخالفت کیوں نہیں کی جاتی جس طرح غذائی اشیا کی قیمتیں کم کرنے کے اقدامات کے معاملے میں کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق، اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی مشکلات کا غیر متناسب بوجھ عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ عوامی نمائندے مالی مراعات سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ گھنگھرا نے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بازاروں کی مؤثر نگرانی اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے، تاکہ تاجر رسد میں کمی یا بازار کے حالات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر صارفین کا استحصال نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے گندم اور آٹے کی قیمتیں قابو میں رہیں اور عام لوگوں کو بنیادی غذائی ضروریات مناسب قیمتوں پر میسر آ سکیں۔