روبیو: ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
روبیو: ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا
روبیو: ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا

 



ایتھنز: امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام جمع کیے ہیں، جن کا مقصد اس کے جوہری پروگرام کو بیرونی فوجی کارروائی سے محفوظ رکھنا تھا۔ ایتھنز میں یونان کے وزیر خارجہ گیورگوس گیراپیٹریٹس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ایران کے یورینیم افزودگی کے محدود حق کو ممکنہ معاہدے کے تحت قبول کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کے باوجود امریکہ کا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔

روبیو نے کہا، ’’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا، بس بات ختم۔‘‘ ممکنہ سفارتی مذاکرات میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کی قابل قبول حد کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایران کے ساتھ جو بھی معاہدہ امریکہ کے لیے قابل قبول ہو، اسے اس بات کی ضمانت دینی ہوگی کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

‘ روبیو سے نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو یورینیم افزودگی کی اپنی صلاحیت کے بارے میں ٹھوس یقین دہانیاں کرانی ہوں گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جان بوجھ کر روایتی فوجی طاقت میں اضافہ کیا تاکہ ایسا دفاعی حصار قائم کیا جا سکے جو اس کی جوہری تنصیبات کو بیرونی فضائی حملوں سے محفوظ رکھ سکے۔

روبیو کے مطابق ایران نے بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون جمع کیے تھے تاکہ اگر کوئی ملک اس کے جوہری عزائم کو روکنے کی کوشش کرے تو اسے تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس دفاعی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کارروائی کی۔ روبیو نے ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے ایران کے ڈرون پروگرام اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو تباہ کر دیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’انہوں نے ان کی میزائل صلاحیت کو تباہ کر دیا۔ موجودہ لانچروں کے اعتبار سے ان دونوں صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے ان کی بحریہ تباہ کر دی اور فضائیہ بھی تباہ کر دی۔‘‘ تاہم پریس کانفرنس کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات اور صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود روبیو نے کہا کہ ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن بری طرح کمزور ہو چکی ہے اور اب تہران کے پاس اپنی جوہری تنصیبات کو کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے بچانے کے لیے پہلے جیسی روایتی فوجی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا، یہ بات حتمی ہے، کم از کم اس وقت تک جب تک صدر ٹرمپ اقتدار میں ہیں۔‘‘ امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی داخلی معیشت پر بھی شدید تنقید کی اور ملک کے بڑھتے ہوئے مالی بحران کی پوری ذمہ داری وہاں کی حکمران اشرافیہ کی ناقص حکمرانی پر عائد کی۔ روبیو نے کہا کہ سخت بین الاقوامی پابندیاں ایران کی معیشت پر مسلسل شدید مالی دباؤ ڈال رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں اقتصادی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ان کی معیشت مکمل طور پر تباہی کی طرف جا رہی ہے۔‘‘

روبیو نے ایرانی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ قومی دولت کو ملک کی ترقی اور عوامی بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے خطے میں سرگرم اپنے حلیف مسلح گروہوں پر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور عراق میں سرگرم ملیشیاؤں کو ایران سے مالی مدد حاصل کرنے والے گروہوں میں شمار کیا۔ علاقائی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت مکمل طور پر جاری ہے اور اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والی تیل کی مقدار تقریباً تنازع سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اب تقریباً اتنا ہی تیل باہر جا رہا ہے جتنا اس تنازع کے شروع ہونے سے پہلے جا رہا تھا۔‘‘