روس کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری، کریملن کی سیاسی گرفت مزید مضبوط

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
روس کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری، کریملن کی سیاسی گرفت مزید مضبوط
روس کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری، کریملن کی سیاسی گرفت مزید مضبوط

 



ماسکو: روسی حکام نے جمعہ کو ملک میں جنگ کے دوران ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات کے مکمل نتائج جاری کر دیے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریملن کی سیاسی گرفت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ روس میں تین روز تک ووٹنگ ہوئی، جو اتوار کو ختم ہوئی۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نتائج کے مطابق کریملن کی اہم سیاسی جماعت ’یونائیٹڈ رشیا‘ کو ایوان زیریں یعنی ’اسٹیٹ ڈوما‘ میں تین چوتھائی سے زیادہ نشستیں حاصل ہوں گی، جو ایک ریکارڈ ہے۔

اس انتخابی عمل میں حقیقی اپوزیشن کو تقریباً مکمل طور پر انتخابی میدان سے باہر رکھا گیا۔ روس کے 11 کروڑ 10 لاکھ اہل ووٹروں میں سے تقریباً 60 فیصد نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں کسی پارلیمانی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹنگ رہی۔ روسی انتظامیہ نے تین دن تک ووٹنگ کا انتظام کیا تھا۔ لوگوں کی شرکت بڑھانے کے لیے بعض علاقوں میں آن لائن ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ یہ پارلیمانی انتخابات 2022 میں صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے۔

ان انتخابات میں یوکرین کے ان چار علاقوں کے باشندوں کو بھی شامل کیا گیا، جن پر روس نے اسی سال کے آخر میں قبضہ کر لیا تھا اور جنہیں روس نے اپنے ملک میں ضم کر لیا تھا۔ یوکرین اور عالمی سطح پر اس الحاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ کریمیا میں بھی ووٹنگ ہوئی، جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔ یوکرین نے ان علاقوں میں روسی انتخابات کرانے اور ووٹنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔ صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کو کہا تھا کہ انتخابی نتائج کریملن کی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے بتایا کہ ’یونائیٹڈ رشیا‘ کو 450 رکنی اسٹیٹ ڈوما میں 349 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔