ہندوستان اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر راجناتھ سنگھ کا زور

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
ہندوستان اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر  راجناتھ سنگھ کا زور
ہندوستان اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر راجناتھ سنگھ کا زور

 



نئی دہلی، ہندوستان کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بدھ کے روز ہندوستان اور آسیان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سمندری سلامتی، ڈرون مخالف نظام، سائبر دفاع اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں اور عملی حل کی ضرورت ہے۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ آسیان-ہندوستان دفاعی تھنک ٹینک فورم سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس فورم کا مقصد محض خیالات کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ایسے عملی اقدامات کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے جنہیں دونوں فریقوں کی حکومتیں اور ادارے مل کر نافذ کر سکیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ فورم گزشتہ سال کوالالمپور میں آسیان کے وزرائے دفاع کے ساتھ میری غیر رسمی گفتگو کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ مجھے خوشی ہے کہ اب اس خیال نے عملی شکل اختیار کر لی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ اجلاس محض خیالات کے تبادلے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ہمیں ایسے عملی اقدامات کی نشاندہی کرنے میں مدد دے گا جن پر ہماری حکومتیں اور ادارے مل کر عمل کر سکیں۔‘‘ ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں خطوں کے رشتے مشترکہ تاریخ، ثقافت، تجارت اور خیالات پر قائم ہیں۔ صدیوں سے سمندری راستوں نے دونوں خطوں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔

راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’صدیوں سے خلیج بنگال کے سمندری راستوں کے ذریعے ہمارے لوگوں کے درمیان رابطے قائم رہے ہیں۔ ان راستوں سے اشیا، علم، فن اور روایات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فلسفیانہ اور روحانی روایات کے اثرات اس خطے کے مندروں، تاریخی عمارتوں، زبانوں اور ثقافتی طور طریقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ قدیم ہندوستانی سلطنتوں، جن میں چولا اور پلو سلطنتیں شامل تھیں، نے تجارت اور سمندری رابطوں کے ذریعے جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تعلقات قائم رکھے تھے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’آج تہذیبی رشتوں کی یہی بنیاد ہماری جدید شراکت داری کو مضبوط بناتی ہے۔

ہند بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے مل کر کام کرتے ہوئے ہمیں اپنی اس تاریخ سے طاقت ملتی ہے جو یاد دلاتی ہے کہ ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا طویل عرصے سے سمندر، ثقافت اور دوستی کے جذبے کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی رشتے ہمارے مستقبل کی بھی مضبوط بنیاد ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور آسیان دونوں خطے میں امن، استحکام، خوش حالی اور ایک کھلے و سب کو ساتھ لے کر چلنے والے ہند بحرالکاہل خطے کے حامی ہیں۔ آسیان ہندوستان کے ہند بحرالکاہل سے متعلق نظریے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا، ’’ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی، ساگر اور مہاساگر کا تصور کھلے اور کثیر قطبی تعاون کی حمایت کرتا ہے۔ ہم آسیان کی قیادت میں قائم نظاموں کے ذریعے ان پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایکٹ ایسٹ پالیسی کو جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کام کرنے کے لیے ہندوستان کا طویل مدتی عزم قرار دیا۔

خطے میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تزویراتی مقابلہ بڑھ رہا ہے اور سمندر میں بعض سرگرمیاں دباؤ اور غیر یقینی صورت حال پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی، سائبر جرائم، سمندری قزاقی، انسانی اور دیگر غیر قانونی اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات اور اہم رسدی نظام کو لاحق خطرات کو بھی ایسے مسائل قرار دیا جو قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ چیلنج اکثر سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ملک ان سب سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔‘‘ وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملکوں کو ایک دوسرے پر اعتماد قائم کرنا چاہیے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے، بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے اور بات چیت کے راستے کھلے رکھنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا، ’’اختلافات کو تنازعات کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی، ابتدائی مرحلے میں اور پُرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ہمیں ایسے علاقائی نظام کی حمایت کرنی چاہیے جس میں ملکوں کو کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور کیے بغیر باہمی تعاون کا موقع ملے۔‘‘ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان آسیان کی قیادت میں قائم پلیٹ فارموں، خصوصاً آسیان وزرائے دفاع اجلاس پلس (اے ڈی ایم ایم پلس)، کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق ہند بحرالکاہل کے بارے میں ہندوستان کا نقطۂ نظر اور آسیان کی سوچ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں علاقائی فورموں کے درمیان مقابلہ پیدا کرنے کے بجائے تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔‘‘ سمندری سلامتی کے موضوع پر وزیر دفاع نے کہا کہ بحر ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے سمندری علاقے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہی راستوں سے تجارت، توانائی، لوگوں اور ضروری اشیا کی آمدورفت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’سمندر ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتے، بلکہ جوڑتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ان سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا تمام متعلقہ ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ راجناتھ سنگھ نے سمندری سرگرمیوں پر نظر رکھنے، بحری افواج اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تال میل اور زیرِ آب سرگرمیوں سے متعلق معلومات کے تبادلے کو مستحکم اور بین الاقوامی قواعد پر مبنی سمندری نظام کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2026 کو آسیان-ہندوستان بحری تعاون کا سال قرار دیا جانا مشترکہ مفادات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہمیں سمندری معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا چاہیے، اپنی بحری افواج اور ساحلی محافظ دستوں کے درمیان تعاون مضبوط کرنا چاہیے اور ہنگامی حالات میں مل کر کارروائی کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق سمندری قزاقی، اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری اور دیگر خطرات کے خلاف تعاون بڑھانے کی بھی اپیل کی۔

فورم میں شریک ماہرین کو قابلِ عمل اقدامات تجویز کرنے کی دعوت دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے سمندری معلومات کے مراکز کے درمیان باقاعدہ رابطوں، بحریہ اور ساحلی محافظ دستوں کے اہلکاروں کے درمیان پیشہ ورانہ تبادلوں اور تلاش و بچاؤ، آفات کے دوران امداد اور اہم سمندری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے عملی مشقوں کی تجویز دی۔ انہوں نے زیرِ آب سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں موجود خامیوں اور ایسی سرگرمیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا جو کھلی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچتیں، لیکن سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ باہمی تعاون کے ذریعے ملکوں کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ سمندری طوفان، سیلاب، سطح سمندر میں اضافہ اور شدید موسمی حالات بندرگاہوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تجارت میں خلل ڈال سکتے ہیں اور لوگوں کی جان و روزگار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور آفات کے دوران راحت رسانی کو دفاعی مذاکرات کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں، بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور کسی بحران کے پیدا ہونے سے پہلے باہمی تال میل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔‘‘ دفاعی ٹیکنالوجی کے بارے میں راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈرون، سائبر صلاحیتیں اور خلائی نظام ملکوں کے دفاع میں تیزی سے اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’حالیہ تنازعات نے یہ بھی دکھایا ہے کہ نسبتاً کم قیمت والے ڈرون کہیں زیادہ مہنگے دفاعی نظاموں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ ہمیں اس کا جواب عملی، کم خرچ اور ضرورت کے مطابق ڈھالے جا سکنے والے حل کے ذریعے دینا ہوگا۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجی کی تیاری صرف بڑے اداروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسٹارٹ اپ، یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے اور چھوٹی کمپنیاں بھی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے ہندوستان کے ’انوویشنز فار ڈیفنس ایکسی لینس‘ (آئی ڈیکس) منصوبے اور ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے دفاعی ضروریات کے لیے نئی سوچ رکھنے والے ماہرین اور اداروں کے ساتھ تعاون کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے تھنک ٹینک اداروں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستان اور آسیان کے ماہرین کے درمیان مشترکہ کام کے امکانات تلاش کریں۔ ان شعبوں میں ڈرون مخالف نظام، سائبر دفاع، سمندری نگرانی اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں مشترکہ تحقیقی منصوبوں، ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے مشترکہ سہولتوں، نوجوان محققین کے تبادلوں اور واضح مقاصد کے ساتھ اختراعی مقابلوں پر غور کرنا چاہیے۔‘‘ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ایسے تعاون میں حساس معلومات کا تحفظ، دانشورانہ ملکیت کے حقوق کا احترام اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ تبادلے کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد مفید صلاحیتیں تیار کرنا اور اس کے ساتھ اپنے ملکوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔‘‘ دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ’آتم نربھر بھارت‘ یعنی خود کفیل ہندوستان کا مقصد ملک کی اندرونی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، لیکن اس کا مطلب دوسرے ملکوں سے الگ تھلگ رہنا نہیں ہے۔